شیخ بلال
وہ گرمیوں کی دوپہر تھی جب پہاڑی راستے پر دھول اڑ رہی تھی اور ٹاپوں کی آواز گونج رہی تھی۔ لکڑیوں سے لدا رسیوں کے درمیان ایک پتلا سا گھوڑا، “چیتا”، ہانپتا ہوا چڑھائی چڑھ رہا تھا۔ اس کی پسلیاں صاف ابھری ہوئی تھیں، نتھنوں سے تیز سانس کی بھاپ نکل رہی تھی، اور پیٹھ پر پڑی زخموں کی ہلکی سرخ لکیریں تازہ تھیں، مگر آنکھوں میں ابھی روشنی تھی، جیسے کسی دور کے میدان میں دوڑنے کی یاد باقی ہو۔مالک نے لگام کو جھٹکا، “چل اوے! ابھی آدھا رستہ اور ہے، پھر کھول دیں گے تجھے گھاس کے میدان میں۔”
چیتا شاید “کھول دینے” کے لفظ کا مطلب نہیں سمجھتا تھا، مگر ہر بار یہ فقرہ گرمیوں کے اختتام کے قریب اکثر اس کے کانوں سے ٹکراتا تھا۔ اسے بس اتنا معلوم تھا کہ گرمیوں میں صبح سے شام تک لکڑی، سیب، آٹا، سیمنٹ، کبھی سیاحوں کے بیگ، کبھی خود سیاح، سب اس کی پیٹھ پر لاد دیئے جاتے۔ وہ چلتا رہتا، بس چلتا رہتا۔ پہاڑوں کی گرمی بھی دراصل دھوپ کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ رات کو تو ٹھنڈی ہوا ہڈیوں میں اتر جاتی تھی۔ چیتا جب تھکا ہارا واپسی پر گاؤں کے قریب پہنچتا تو کہیں سے بچے دوڑتے ہوئے آتے، اس کی گردن تھپتھپاتے، اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے اور کبھی کبھی کوئی بچہ چپکے سے روٹی کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی اس کے منہ کے قریب لاتا۔ وہ آہستہ سے چر لیتا، جیسے کوئی راز ہو جسے کسی نے دیکھ نہ لیا ہو۔ پھر وہ دن بھی آیا جب پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہلی برف جمی۔ ہوا میں نمی اور ٹھنڈ بڑھ گئی۔ ایک صبح مالک نے چیتا سمیت کئی گھوڑوں کو کھلے میدان کی طرف ہانکا۔
“ابے جاؤ، آزاد ہو، ساری سردی موج کرو، گھاس کھاؤ، برف میں لوٹو اور جب گرمی آئے گی، پھر کام پر لگیں گے۔”
آواز میں لاپروائی تھی، جیسے کوئی پرانی چیز گودام سے باہر پھینک رہا ہو۔ چیتے نے حیرت سے دائیں بائیں دیکھا۔ آج اس کی پیٹھ پر نہ کوئی بوجھ تھا، نہ پیٹ میں کچھ خاص مگر بدن ہلکا لگ رہا تھا۔ وہ چند قدم بھاگا، پھر رک گیا، پھر چلنے لگا۔ دوسرے گھوڑے بھی ادھر ادھر بکھر گئے۔ شروع کے دنوں میں وہ واقعی “آزاد” محسوس ہوا۔ سوکھی گھاس کے جو ٹکڑے مل جاتے، چر لیتا۔ تالاب کا ٹھنڈا سا پانی پی لیتا۔ کبھی پہاڑی ڈھلوان سے نیچے اترتے ہوئے اسے واقعی لگتا کہ وہ جنگلی گھوڑوں کے قبیلے سے ہے مگر آزادی کو خوراک چاہیے اور سردی کو جسم پر گوشت۔ دونوں ہی ختم ہو رہے تھے۔
برف کے پہلے بڑے طوفان کے بعد میدان کی سبز پرچھائیاں سفید کفن کے نیچے دفن ہو گئیں۔ ہوا اب چاقو کی طرح چبھنے لگی۔ چیتا جب سانس لیتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے سینے میں برف کے ٹکڑے بھر رہے ہوں۔ ایک رات برفباری نے پورا منظر بدل دیا۔
چیتا کے ساتھ دو اور گھوڑے تھے…. ایک بوڑھی سی گھوڑی، جس کی ایک آنکھ کمزور تھی، اور ایک جوان مگر کمزور سا گھوڑا، جو چلتے چلتے بار بار لڑکھڑا جاتا۔ برف ان کے سموں کے گرد جمتی، تو وہ باہم ایک دوسرے کے قریب ہو کر کھڑے ہو جاتے، جیسے کچھ گرمی ایک دوسرے کے بدن سے چرا کر زندہ رہ سکیں۔کئی دن تک خوراک کی تلاش ان کی واحد مصروفیت رہی۔ درختوں کی سوکھی چھال، برف کے نیچے دبی ہوئی کچّی گھاس یا کبھی گاؤں کے کنارے سے مل جانے والی گندی، گیلی گھاس کے چند ریشے۔ بھوک نے ذائقے کا تصور چھین لیا تھا۔
ایک صبح جب سورج ٹھنڈا سا چہرہ لئے نکلا تو بوڑھی گھوڑی وہیں پڑی تھی، جہاں رات کو وہ کھڑی تھی۔ اس کے نتھنوں سے بھاپ اب نہیں اٹھ رہی تھی۔ چیتے نے اس کے جسم کو ناک سے ٹہوکا دیا، مگر وہ نہیں ہلی۔ جوان گھوڑے نے ایک کمزور سا ہنہنانا کیا، جس میں خوف اور تنہائی کی ایک نیچی سی چیخ چھپی تھی۔ وقت کا پہیہ رکا نہیں، مگر ان کے لئے جیسے سست ہو گیا۔ برف کبھی نرم، کبھی سخت، کبھی بارش میں بدل کر ان پر گرتی رہی۔ چیتا ہلکا ہلکا لاغر ہوتا گیا۔ ایک دن پیٹ میں ایسی اینٹھن اٹھی کہ وہ چلتے چلتے سیدھا نہیں ہو پا رہا تھا۔
اسی شام اس نے دور گاؤں کے چراغوں کی مدھم روشنی دیکھی۔ اسے یاد آیا کہ گرمیوں میں وہ انہی گلیوں سے گزرتا تھا۔ بچوں کی ہنسی، سیاحوں کے شور، مالک کی ڈانٹ، سب ایک ساتھ کانوں میں گونجنے لگے۔ وہ لنگڑاتا ہوا گاؤں کی طرف بڑھا۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک لڑکا اسے نظر آیا، جو پانی لینے جا رہا تھا۔ چیتے نے آخری ہمت جمع کر کے ہنہنایا۔
لڑکے نے چونک کر پیچھے دیکھا، “ارے یہ تو چیتا ہے!”
اس نے آگے بڑھ کر اس کی گردن تھپتھپائی، پھر چونک کر ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ ہڈیوں پر کھال تھی اور کھال پر برف پگھل کر پانی بن رہی تھی۔”ابا! ابا! چیتا آ گیا، بہت کمزور ہو گیا ہے!” لڑکا چیخا۔
مالک دروازے پر آیا، دور سے گھوڑے کو دیکھا، پھر بے نیازی سے کندھے اچکا دیئے۔
“آنے دے، اگر بچ گیا تو گرمیوں میں کام آ جائے گا، نہیں تو ویسے بھی بُوڑھا ہو گیا ہے۔”چیتے کے کانوں تک الفاظ تو نہیں پہنچے، مگر لہجے کی سردی ضرور پہنچی۔
وہ تھوڑا اور آگے بڑھا، لڑکا اب بھی اس کے ساتھ ساتھ تھا۔
گاؤں کے باہر ایک خشک درخت کے پاس وہ رک گیا۔ سانس پھول رہی تھی، آنکھوں کے سامنے سب دھندلا سا ہو رہا تھا۔ اسے بےوجہ وہ سبز ڈھلوان یاد آئی جہاں کبھی وہ بغیر بوجھ کے دوڑا تھا۔ اس کے بعد برف کے گرتے فلیکوں اور چیتا کی سانسوں کی رفتار میں مقابلہ ہونے لگا۔ آخر وہ لمحہ آیا جب ٹاپوں کی گونج اندر سے ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی، اور باہر برف کے نرم ذروں نے اس کے جسم کو ڈھانپنا شروع کردیا۔بہار جب واپس آئی، برف پگھلی، راستے پھر آباد ہوئے، سیاح واپس آئے اور نئے گھوڑے، تازہ جوش کے ساتھ پہاڑی راستوں پر چلنے لگے۔
کسی کو یاد نہیں تھا کہ پچھلی سردی میں کتنے گھوڑے مرے، اور کتنے زندہ بچ گئے۔
بس دور کہیں، خالی میدانوں میں برف کا ذائقہ، بھوک کی سلگتی آگ اور چند خاموش قبریں، ان ٹاپوں کی گونج سن رہی تھیں جو کبھی گرمیوں میں پہاڑوں کو زندہ رکھتی تھیں۔
���
[email protected]