عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کے مطالبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یونین ٹیریٹری کے عوام کسی بھی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مطالبے سیاسی طور پر غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابلِ عمل ہیں۔بھاجپا لیڈرسنیل شرما کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر وہ وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں پورے جموں و کشمیر کی قیادت کرنی ہوگی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو سیاسی مفاد کے لیے سکڑنے کی کوشش کی گئی تو ایسی قیادت محض کنک منڈی اور رگھوناتھ بازار جیسے چند علاقوں کے ’میئر‘ کی سطح تک محدود ہو جائے گی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ رامبن، ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری، بانی، پونچھ اور ریاسی کے بڑے حصے کے عوام تقسیم کے حامی نہیں ہیں اور جموں کو الگ کرنے کے خیال کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ الگ جموں ایک چھوٹی اور سیاسی طور پر غیر مؤثر اکائی ثابت ہوگی۔ نیشنل کانفرنس کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جب تک پارٹی کا پرچم خطے میں لہراتا رہے گا، کوئی بھی جموں و کشمیر کو تقسیم نہیں کر سکے گا۔