بلا شبہ زندگی کے سفر میں ہمارا وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، کوئی دن ہمارے لئے خوشی کی خبر لے کر آتا ہے تو کوئی دُکھ کی بھی۔ کبھی ہم پرخوشیوں کی بارش ہوتی ہے تو کبھی غم کی آندھیاں بھی چلتی ہیں،گویا مصیبتوں اور پریشانیوں سے انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسی لئے اسلام نے ہمیں ہر حالات میں صبر اور شکر ادا کرنے کی تلقین کی ہےاور واضح کردیا ہے کہ جو انسان صبر و شُکر کے ساتھ نیک عمل کرے گا ،اُس کی زندگی دنیا و آخرت میں سرخرو ہوگی۔قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ دنیا کی زندگی تو فقط کھیل تماشا ہے ،مال و زَراور اولاد چند روزہ زندگی کے بنائو سنگھارہیں،دنیا کی مرغوب چیزیں تو زندگی کے چند روز ہ فائدے ہیں اور ہمیشہ کا ٹھکانہ اللہ کے ہاں ہے۔بے شک! صبر اورشُکر دونوں اسلامی تعلیمات میں کلیدی مقام کے حامل وہ اوصاف و اخلاق ہیں،جنہیںمسلمان کو اپنانے پر اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ قرآن وحدیث میں ان دونوںاوصاف کے تعلق سے جابجا تاکیدی وترغیبی ہدایات ملتی ہیںاور صبر واہلِ صبر کی اہمیت، فضیلت ، مقام و مرتبہ ، فوائد ونتائج اور ثمرات کی ذکر بھی وضاحت سے آئی ہے۔ اسی طرح صبر کی اہمیت و افضلیت کے تعلق سے بے شمار احادیث موجود ہیں جن سے صبر کے افضل واعلیٰ ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
بغور دیکھا جائے تو زندگی مشکلات کا دوسرا نام ہے، ہر انسان کو اپنی زندگی میں مصیبتوں اور مشکلوں کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر ، بوڑھا ہو یا جوان، اچھا ہو یا بُرا، مرد ہو یا عورت۔ سب کوکبھی نہ کبھی مصائب و مشکلات سے گذرنا پڑتا ہے ۔ صبر یہ ہے کہ ہم مصیبتوں پر یشانیوں اوربُرے وقت کے باوجود اللہ سے شکوہ کرنے کی بجائے ہر حال میں اُس کا شکر ادا کریں کہ اے ربّ ! تو جس حال میں رکھے ،ہم اس حال میں راضی ہیں۔کیونکہ صبر ایک عظیم نعمت ہے جو مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہوتا ہے وہ شخص، جس نے تقویٰ کے ذریعے ہوائے نفس پر اور صبر کے ذریعے اپنے نفس پر قابو پا لیاہے۔ صبر کے عمل میں ارادے کی مضبوطی اور عزم کی پختگی ضروری ہے۔ بے کسی ، مجبوری اور لاچاری کی حالت میں کچھ نہ کرسکنا اور رو رو کرکسی تکلیف و مصیبت کو برداشت کر لینا ہرگز صبر نہیں ہے بلکہ صبر یہ ہے کہ ہم اپنے عمل میں ثابت قدم رہیں اورسچے دل سے اللہ کی رضا میں راضی ہوں ۔ مسلمان کی پوری زندگی صبر وشُکر سے عبارت ہے، دین اسلام کی ہر بات صبر و شکر کے دائرے میں آجاتی ہے،جس میں رہ کر انسانی زندگی اور اُس کی صحت تھوڑی آمدنی پر بھی قائم رکھی جاسکتی ہے۔حالانکہ انسان کی سب سے بڑی خوش قسمتی اور اس کی زندگی کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ وہ کسی خاص کام کا رجحان لے کر پیدا ہوا ہےجبکہ زندگی کا اصل مقصد خدائی حکومت کا قیام ہے اور یہ جبھی ممکن ہے کہ ہم میں سے ہرشخص صبر و شُکر کا داعی بنےاور سچائی و دیانتداری اختیار کرے۔ظاہر ہے کہ آج کے انسان کو دین سے دوری کی وجہ سے بہت زیادہ مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے، لیکن اگر ہم خالق کائنات کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اِس دنیا میں صبر سے کام لیں تو ہمارے زیادہ تر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ دیگر نیک اعمال کے مقابلہ میں صبر اور شُکر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرمائے گا۔‘‘ آج دینی و دنیاوی معاملات میں صبر کا دامن چھوڑنے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہی کی سمت جارہا ہے، چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ہمارے نو جوانوں سے برداشت نہیں ہوتی۔ صبر و شُکر کی کمی کی وجہ سے گھر کے گھر اُجڑ رہے ہیں ۔ ہمارے لئے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی صبر وشُکر کا بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی صبر وتحمل سے بھری ہوئی ہے، آپ ؐ کا فرمان ہے،’’ جسے کوئی مصیبت پہنچے، اُسے چاہئے کہ اپنی مصیبت کے مقابلے میں میری مصیبت یاد کرے، بے شک وہ سب مصیبتوں سے بڑھ کر ہے۔ یاد رہے کہ زندگی کا کوئی بھی موڑ ہو، صبر کے بغیر ہماری تمام زندگی نامکمل ہے ۔ آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر وقت اللہ پاک کے آگے صبر و شُکر کرتے رہیں۔ چاہے ہماری زندگیوں میں کتنی ہی مصیبتیں غم اور پریشانیاں کیوں نہ ہوں، اللہ تعالی ہمیں صبر و شکر کی دولت نصیب فرمائیں۔