جاوید اقبال
مینڈھر//بار ایسوسی ایشن مینڈھر نے پیر پنجال خطے میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا پْرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے سے اعلیٰ قانونی تعلیم کے میدان میں مسلسل نظرانداز ہوتا آ رہا ہے، حالانکہ جغرافیائی، سماجی اور اسٹریٹجک اعتبار سے پیر پنجال کی غیر معمولی اہمیت ہے۔
بار ایسوسی ایشن کے ترجمان ایڈووکیٹ راجہ محمود خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے نوجوانوں کو معیاری قانونی تعلیم تک مقامی سطح پر رسائی دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیر پنجال کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث نہ صرف مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ کئی باصلاحیت طلباء تعلیم ادھوری چھوڑنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایڈووکیٹ راجہ محمود خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور مرکز کی مختلف تعلیمی پالیسیوں میں اس خطے کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، جو یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پیر پنجال میں نیشنل لا یونیورسٹی قائم کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف قانونی تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ علاقائی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مطالبہ کسی ایک ادارے یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے پیر پنجال خطے کے عوام کی جائز اور آئینی خواہش ہے۔بار ایسوسی ایشن کے ترجمان نے حکومتِ ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ اس مطالبے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں تاکہ پیر پنجال میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ پریس کانفرنس کے دوران بار ایسوسی ایشن کے دیگر اراکین بھی موجود تھے جنہوں نے اس مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ آئندہ دنوں میں اس سلسلے میں عوامی اور قانونی سطح پر مزید جدوجہد کی جائے گی۔