بلا شبہ تعلیم انسان کو جہاں کمانے کا راستہ دکھاتی ہے ،وہیںزندگی کاگذر بسر کرنا بھی سکھاتی ہے۔اسی لئے علم کا حصول محض فرد کی ذاتی ترقی کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس کا گہر اثر معاشرت پر بھی پڑتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرے کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ۔تعلیم کے ذریعے نہ صرف انسان میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ معاشرتی مسائل کا حل بھی تلاش کرتا ہے اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہتر بناتا ہے۔گویا تعلیم نہ صرف فرد کی فلاح کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرے کی فلاح کا بھی ایک اہم زینہ بنتی ہے۔
اسی لئے قرآن و حدیث میںتعلیم کی اہمیت بار بار بیان کی گئی ہے اور اس کو ایک ایسی دولت قرار دیا گیا ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیاب بناتی ہے۔جبکہ موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت اور افادیت مزید بڑھ رہی ہے اور اسےنظر انداز کرنا سب سے بڑی حماقت سمجھی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ موجودہ دور میںتعلیم کا معیار تیزی سے بدل رہا ہے۔ جہاں کبھی کتابیں، اُستاد اور کلاس روم علم کا مرکز سمجھے جاتے تھے، وہاں اب موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ بظاہر یہ سب سہولتیں علم کے حصول کو آسان بناتی ہیں، مگر ساتھ ہی ان سہولیات نے جس طرح ہماری نئی نسل کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا ہے،اُس سے حصولِ تعلیم کا اصل مقصد فوت ہورہا ہے۔
جس کے نتیجے میں تعلیم یافتہ افراد نہ اپنی زندگی بہتر بناتے ہیں اور نہ ہی اپنے معاشرتی ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔حالانکہ جب کوئی انسا ن تعلیم یافتہ بن جاتا ہے تواُس کے متعلق یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بہتری لاتا ہے،اپنے عمل کو اخلاقی بنیادون پر استوار کرتا ہے، اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی بخوبی سمجھ پاتا ہے،اپنے والدین ،اپنے رشتہ دارو ںاورد وسرے لوگوں کے حقوق کا احترام کرتا ہے، ان کے ساتھ انصاف اور ہمدردی سے پیش آتا ہےاورمعاشرتی ترقی کی راہوں پر گامزن ہوجاتا ہے۔لیکن موجودہ دور میں انسان جتنا زیادہ تعلیم حاصل کرتا ہے ،اُتنا ہی وہ ان صفات سے محروم ہوتا جارہا ہے،جبکہ زیادہ تر تعلیم یافتہ لوگ ،ناخواندہ لوگوں سے سے گئے گذرے نظر آتے ہیں۔
اُن کا طرزِ زندگی ہی بدل جاتا ہے،اُن میں اخلاقی اقدار ناپید ہوجاتے ہیںاور وہ نہ والدین کے ساتھ حسن ِسلوک سے پیش آتے ہیں اور نہ ہی رشتہ داری کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں۔اُنہیںدوسروں کے حقوق کی پاسداری کا احسا س تک نہیں رہتااور اس طرح وہ نہ اپنی فطری صلاحیتوں کو کارآمد بنانے میں کامیاب رہتے ہیں اور نہ ہی کسی کے لئے صحیح راستے کی نشاندہی کرنے کے قابل رہتے ہیں۔ حالانکہ کہا تو یہی جارہا ہے کہ تعلیم انسان کی رہنمائی کرتی ہے اور اسے صحیح راستہ دکھاتی ہے۔ جس کی بدولت انسان خود کو اور اپنے اردگرد کی دنیا کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے۔مگر یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے اور ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ موجودہ جدید دور میں تعلیم نہ انسان کے ذہن کو وسعت دیتی ہے اور نہ ہی اُس کی زندگی کو مقصدیت فراہم کرتی ہےاور نتیجتاًآج کے زیادہ تعلیم یافتہ لوگ اپنے روحانی اور دنیاوی معاملات میں توازن پیدانہیں کرپاتے ہیں اور نہ ہی ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا معاشرہ اس معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ غورو فکر کریں کہ ہمارےتعلیم یافتہ افراد کی ایسی صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ہمارے یہاں کا مروجہ تعلیمی نظام یا ہماری تربیت ۔
جبکہ اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ تعلیم کا مقصد انسانی علم میں اضافہ کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد انسانی ذہن کی تشکیل ہے۔گویا علم کی روشنی انسان کے لئے ضروری ہے، جو اُسے اندھیروں میں راہ دکھاتی ہے، جاہلیت کی تاریکیوں سے نکلال دیتی ہے،جس سے انسان کی زندگی میں تبدیلی آتی ہے، وہ اپنے مقام کو پہچانتا ہے، ایک بہتر انسان بن کر معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ا س لئے اگر ہم ایک مرد کو تعلیم دیتے ہیں تو گویا صرف ایک فرد کو علم دلاتے ہیں اور اگر ہم ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں توپورے کنبہ کو تعلیم یافتہ بناتے ہیں۔