سمت بھارگو
راجوری//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پیر کے روز راجوری میں منعقدہ عوامی رابطہ پروگرام’گل بات‘ کی صدارت کی، جس کے دوران انہوں نے جموں و کشمیر کو درپیش مختلف سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی مسائل پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔پروگرام کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ 2019 کے بعد سے جموں و کشمیر کے عوام مسلسل اضطراب اور مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بہتر طرزِ حکمرانی کیلئے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں، خاص طور پر پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں۔محبوبہ مفتی نے راجوری اور پونچھ جیسے پہاڑی اضلاع میں نئے اضلاع کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سرکاری خدمات کے حصول کیلئے طویل فاصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع قائم کرنے سے نہ صرف انتظامی نگرانی بہتر ہوگی بلکہ عوامی مشکلات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مطالبے کو حکومت کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں بھی اٹھایا جائے گا۔سابق وزیر اعلیٰ نے پیر پنجال خطہ اور چناب ویلی کیلئے الگ ڈویژن بنانے کی بھی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں علیحدہ ڈویژنل کمشنر دفاتر قائم کئے جائیں تاکہ عوام کو معمولی کاموں کیلئے بھی جموں جانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔مغل روڈ ٹنل کے منصوبے پر زور دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ منصوبہ نہایت اہم ہے کیونکہ اس سے سال بھر رابطہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ برف باری کے دوران جموں-سرینگر شاہراہ بند ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بے روزگاری کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے مرحوم مفتی محمد سعید کے دور حکومت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پولیس میں خصوصی بھرتیاں عمل میں لائی گئی تھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راجوری اور پونچھ جیسے علاقوں میں نوجوانوں کیلئے پولیس، بی ایس ایف اور سی آر پی ایف میں خصوصی بھرتی مہمات شروع کی جائیں۔انہوں نے پیر پنجال خطے میں سیاحت اور باغبانی کے فروغ پر بھی زور دیا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور گھریلو سطح پر معاشی استحکام آئے۔محبوبہ مفتی نے صحت اور تعلیم کے محکموں میں عملے کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں خاطر خواہ بھرتیاں نہیں ہوئیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ خالی آسامیوں کو فوری طور پر پْر کیا جائے۔لاء یونیورسٹی کے قیام سے متعلق تنازعہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ بل ان کے دور میں منظور ہوا تھا، جس میں مقامی طلبہ کیلئے ریزرویشن شامل کرنے کا ارادہ تھا۔راجوری میں منعقدہ ‘گل بات’ پروگرام میں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور عوامی مسائل کو براہ راست قیادت کے سامنے رکھا۔