جاوید اقبال
مینڈھر//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر، سابق سرپنچ اور متحرک نوجوان سیاسی کارکن میاں شیراز احمد ازہری کے انتقال پر او بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی و سماجی تنظیموں اور عام عوام نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ تعزیتی بیانات میں کہا گیا کہ مرحوم کی وفات سے نہ صرف نیشنل کانفرنس بلکہ پورے علاقے کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔میاں شیراز احمد ازہری کا شمار علاقے کے سرگرم، بااثر اور عوام دوست نوجوان لیڈروں میں ہوتا تھا۔ وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھے اور عوامی مسائل کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اپنی سیاسی زندگی کے دوران انہوں نے ہمیشہ عام لوگوں، بالخصوص پسماندہ طبقات کے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔ او بی سی برادری کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور مناسب نمائندگی کے حوالے سے ان کی خدمات کو عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔سابق سرپنچ کی حیثیت سے میاں شیراز احمد ازہری نے گورسائی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے دور میں دیہی سطح پر سڑکوں، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے بروقت حل پر خصوصی توجہ دی گئی۔ نوجوانوں کو پنچایتی اور سماجی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے بھی انہوں نے نمایاں اقدامات کئے۔مرحوم ایک ایسے رہنما تھے جو ہر وقت عوام کے درمیان موجود رہتے تھے۔ خوشی ہو یا غم، وہ ہمیشہ لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں عوامی حلقوں میں بے حد عزت و احترام حاصل تھا۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، مقامی پنچایتی نمائندوں، سماجی کارکنوں اور معزز شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔او بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے مرحوم کی سیاسی و سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میاں شیراز احمد ازہری کی وفات سے ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پْر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مقامی تنظیموں نے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی جدوجہد اور عوامی خدمت نوجوان نسل کے لئے ایک روشن مثال ہے۔