اشرف چراغ
کپوارہ//قلم آباد اور اس کے ملحقہ علاقوں کے مکینوں نے نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر قلم آباد میں صحت کی ابتر صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل انتظامی غفلت نے صحت عامہ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ رہائشیوں کے مطابق ہیلتھ سنٹر میں الٹراسونوگرافی (یو ایس جی)ڈاکٹر صرف ایک دن دستیاب رہتا ہے، جس سے مریضوں، خاص طور پر حاملہ خواتین اور جن کو بروقت تشخیصی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے، کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ایک مخصوص ایمبولینس کی سہولت کی عدم موجودگی کی وجہ سے صورتحال مزید گھمبیر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو طبی ہنگامی صورتحال کے دوران نجی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ طبی اور نیم طبی عملے کی شدید کمی کی وجہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات دستیاب نہیں جس کے نتیجے میں مر یض بے یارو مد گار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی کمی کی وجہ سے مریض اکثر مناسب مشاورت یا علاج کے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ لوگوں نے مقامی ایم ایل اے کی مبینہ بے عملی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بارہا درخواستوں اور عوامی نمائندگی کے باوجود صحت مرکز کے کام کاج کو بہتر بنانے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے رکن اسمبلی اور راجیہ سبھا ممبرسے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کرکے فوری تدارک کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ماہر خدمات کی باقاعدہ دستیابی، مناسب عملہ اور این ٹی پی ایچ سی قلم آباد میں ایمبولینس کی فوری تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔رہائشیوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کی دیکھ بھال ایک بنیادی حق ہے اور اسے اولین ترجیح کے طور پر سمجھا جانا چاہئے، حکام پر زور دیا کہ وہ وسیع تر عوامی مفاد میں بلا تاخیر کام کریں۔