بلال فرقانی
سرینگر// سالہا سال سے موجود کچرا کے پہاڑوں سے اٹھنے والی بدبو، مچھروں کی بھرمار اورزیر زمین پانی کی آلودگی سے شہر سرینگر بیماریوں کے آتش فشاں پر ہے۔ اس صورتحال سے پریشان مقامی آبادی کیلئے قومی گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نئی امید بن گیا ہے۔ ٹریبونل کی طرف سے سرینگر میونسپل کارپوریشن کی سرزنش اور جرمانہ عائد کرنے سے اچھن کی 21بستیوں کیلئے امدیں پیدا ہوگئی ہیں کہ شاید انکی سنی جائیگی۔ قومی گرین ٹریبونل نے میونسپل کارپوریشن کی لاپرواہی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تازہ رپورٹ میں تاخیر پر 15 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ این جی ٹی کی پرنسپل بینچ میں شامل جسٹس پرکاش شریواستو اور ماہر رکن اے سینتھل ویل نے درخواست کی سماعت کے دوران افسوس ظاہر کیا کہ ایک سنگین انسانی اور ماحولیاتی مسئلہ ہونے کے باوجود متعلقہ ادارے عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں سنجیدہ نظر نہیں آتے ہیں۔ٹریبونل نے یاد دلایا کہ 2025 کے حکم میں اچھن فضلہ گاہ پر تقریباً 11 لاکھ میٹرک ٹن پرانا کچرا موجود ہونے اور روزانہ پیدا ہونے والے کچرے میں سے 350 سے 400 ٹن کچرے کی صفائی نہ ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ اس موقع پر ایس ایم سی نے مرحلہ وار منصوبہ پیش کیا تھا اور یقین دہانی کرائی تھی، لیکن ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود وعدہ پورا ہوا نہ کوئی واضح پیش سامنے آئی۔سماعت کے دوران ایس ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تازہ رپورٹ ایک دن قبل داخل کی گئی ہے، تاہم تسلیم کیا کہ رپورٹ تاخیر سے دی گئی۔ این جی ٹی نے واضح کیا کہ جرمانہ ادا ہونے کے بعد ہی رپورٹ قابل قبول ہوگی۔ ٹریبونل نے ایس ایم سی کو ہدایت دی کہ وہ اچھن کی موجودہ صورتحال، کچرے کی صفائی کی صلاحیت اور زمینی حقائق پر مبنی ایک جامع رپورٹ اگلی سماعت سے قبل جمع کرائے۔ کیس کی اگلی سماعت 8 اپریل 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔اچھن فضلہ گاہ پر گزشتہ ایک دہائی سے کئے گئے تحقیقی مشاہدوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچرے میں آگ لگنے کے واقعات، دھوئیں کے بادل اور کاربن کے اخراج نے فضا کو تباہ کن بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام پر غیر سائنسی طریقے سے کچرے کی علیحدگی نہ ہونا، پلاسٹک، طبی فضلہ اور کیمیائی مواد کا ایک ساتھ پھینکا جانا ایک بڑا مسئلہ ہے، جو خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ آوارہ کتوں، چوہوں اور دیگر جانوروں کی بہتات نے عوامی تحفظ کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ فضلہ گاہ کے آس پاس رہنے والے افراد کو معاشرتی دباؤ، احساسِ محرومی اور جائیداد کی قیمتوں میں کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے، جو اس مسئلے کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی و انسانی بحران بنا دیتا ہے۔یہاں دمہ، چھاتی، الرجی، معدے اور بیماریاں پھیلنے کی رفتار میں 30فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔گزشتہ برسوں سے علاقے کے مکین کئی بار احتجاج کر چکے ہیں ، لیکن اسے متبادل جگہ پرمنتقل نہیںکیا جاسکا ہے۔ اچھن فضلہ گاہ سے نکلنے والا زہریلا مواد نہ صرف قریبی آبادی بلکہ شہر کے ماحولیاتی نظام، زیر زمین پانی اور قریبی آبی ذخائر کیلئے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔