محمد عرفات وانی
دسمبر کی ایک تند صبح تھی اور سردی اس قدر شدید گویا سانسوں کو پرکھ رہی ہو اور ہر زندہ وجود سے اس کے ہونے کا ثبوت مانگ رہی ہو۔ جب میں نیند سے بیدار ہوا تو کمرے کی خاموشی بھی ساکن نہ تھی، اس میں ایک انجانا سا اضطراب تیر رہا تھا، ایسا اضطراب جو موسم کا نہیں بلکہ آنے والے دن کا تھا۔ آج میرا کمپیوٹر کا فائنل امتحان تھا، وہ امتحان جو بی ایس سی نرسنگ کے ساتھ محض ایک اضافی کورس میں نے کیا تھا مگر آج وہی اضافی شے زندگی کے عین مرکز میں آ کھڑی ہوئی تھی، سوال بن کر، آئینہ بن کر۔ بستر سے اٹھ کر میں نے چائے کی چسکیاں لینی شروع کیں اور کپ ہاتھ میں لئے کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ باہر درخت ساکت تھے، پہاڑ خاموش، زمین منجمد اور چائے کی بھاپ یوں اٹھ رہی تھی جیسے وہ بھی اس سردی سے لڑ رہی ہو، شاید مجھے اس لمحے یہ احساس نہیں تھا کہ میں صرف ایک امتحان دینے نہیں جا رہا بلکہ ایک ایسی حقیقت کے روبرو ہونے جا رہا ہوں جو برسوں سے خاموشی کے پردے میں چھپی ہوئی تھی، ایک زبان کا زخم، ایک تہذیب کی تھکن جیسا کہ کہتے ہیں، ’’وقت ہر زخم کا مرہم ہے‘‘ مگر یہ مرہم آج بہت دور لگ رہا تھا۔
جب میں گھر سے نکلا اور ترال پہنچا تو گاڑی پہلے ہی منتظر تھی۔ ہم سب ایک ہی گاڑی میں سوار ہوئے، ہم عمر، ہم جماعت، ہم نصیب، چہروں پر مسکراہٹیں تھیں مگر آنکھوں کے پیچھے بکھراؤ چھپا ہوا تھا۔ گاڑی اننت ناگ کی طرف چل پڑی کیونکہ ہمارا امتحانی سینٹر وہیں تھا۔ ابتدا میں گفتگو معمولی رہی، سوالات، نصاب، نتیجے کی قیاس آرائیاں مگر جیسے جیسے فاصلہ کم ہوتا گیا باتوں کا محور بدلتا گیا، اب امتحان صرف انگریزی میں نہیں تھا بلکہ اردو میں بھی تھا اور وہ بھی محبت کے ساتھ نہیں بلکہ خوف کے ساتھ، کوئی کہہ رہا تھا کہ اردو نہیں آتی، کوئی ہنستے ہوئے اپنی کمزوری پر پردہ ڈال رہا تھا کہ بس جیسے تیسے پاس ہو جائیں گے، نہ لہجوں میں شرمندگی تھی نہ چہروں پر کسی محرومی کا احساس، بس ایک عجیب سا قبول تھا، جیسے اپنی زبان سے ناواقف ہونا کوئی فطری بات ہو، جیسے یہ سب کچھ ہونا ہی تھا۔ میں خاموش رہا مگر میرے اندر شور برپا تھا، یہی وہ اردو تھی جس میں ہم نے پہلا لفظ سیکھا تھا، جس میں ماں نے ہمیں لوریاں دی تھیں، جس میں خواب دیکھے گئے تھے اور آج وہی زبان ہمارے لئے اجنبی بن چکی تھی۔
جیسا کہ کہتے ہے زبان صرف الفاظ نہیں، ایک قوم کا آئینہ ہے۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ زبانیں اچانک نہیں مرتیں، انہیں آہستہ آہستہ بے دخل کیا جاتا ہے، خاموشی سے، نصاب کے حاشیوں میں، ترجیحات کی فہرست سے نکال کر۔
امتحانی مرکز پہنچے تو ہال میں داخل ہوتے ہی وہی بےچینی فضا میں پھیلی ہوئی تھی جو کسی فیصلے سے پہلے ہوتی ہے، کرسیوں کی چرچراہٹ، کاغذوں کی سرسراہٹ اور دلوں کی دھڑکنیں ایک دوسرے میں گڈمڈ تھیں۔ پیپر ہاتھ میں آیا، چار سیکشن تھے، پہلے تین سیکشن مانوس تھے، قلم رواں رہا، جیسے سب کچھ قابو میں آ گیا ہو، جیسے خوف بےسبب تھا مگر پھر چوتھا سیکشن سامنے آیا جو اردو میں تھا جس کو ہم تہذیبی زبان بھی کہتے ہیں، یہ محض سوالات کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ہماری تعلیمی ترجیحات کا پوسٹ مارٹم تھا، ہماری اجتماعی غفلت کا تحریری ثبوت، ایک ایسا آئینہ جس میں ہم برسوں سے جھانکنے سے کترا رہے تھے۔ ہال میں ایک بےآواز ہلچل پھیل گئی، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، جیسے آنکھوں سے مدد مانگ رہے ہوں۔ قلم رک گئے، چہرے خالی ہو گئے، لفظ بے معنی ہو گئے، کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سوال کیا ہے اور کسی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جواب کیسے لکھا جاتا ہے۔ نگران خاموش تھے مگر ان کی خاموشی میں ایک گہرا سوال چھپا ہوا تھا جو کاغذ پر نہیں ضمیروں پر لکھا جا رہا تھا۔ میں نے جھک کر اپنے کاغذ پر باقی جواب مکمل کئے اور پھر نگاہ اٹھا کر دیکھا، کچھ لوگ الفاظ گھسیٹ رہے تھے، کچھ محض خانے بھر رہے تھے اور کچھ ایسے بیٹھے تھے جیسے اردو زبان نے انہیں مسترد کر دیا ہو۔ یہ منظر محض افسوس نہیں بلکہ ایک گہری شکست کا احساس تھا۔ یہ وہ نسل تھی جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تھا مگر اردو زبان کے حروف اس کے لئے اجنبی تھے، جو جدید اصطلاحات سے واقف تھی مگر اپنی تہذیب کے بنیادی لفظوں سے ناآشنا۔
اسی ہال میں بیٹھے بیٹھے مجھے ایک اور حقیقت یاد آ گئی، وہ حقیقت جو اس دن سے پرانی تھی مگر زخم آج زیادہ گہرا محسوس ہو رہا تھا۔ پچھلے batch میں بھی یہاں بچے امتحان دینے آئے تھے، وہی کورس، وہی سینٹر، وہی چار سیکشن۔ میں نے بعد میں معلوم کیا تو ان میں سے کئی طلبہ مجموعی طور پر قابل تھے۔ انگریزی اور کمپیوٹر میں اچھے نمبر تھے مگر وہ صرف ایک جگہ ہار گئے تھے، صرف اردو کے سیکشن میں۔ وہ فیل نہیں ہوئے تھے دراصل وہ اپنی زبان سے جدا کر دیئے گئے تھے۔ یہ ناکامی کسی ایک دن کی نہیں تھی، یہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ تھی، ایک ایسا حساب جو ہر سال دہرایا جا رہا تھا اور ہم ہر بار اسے محض اتفاق سمجھ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔
امتحان ختم ہوا، لوگ باہر نکل آئے، کسی نے سکون کی سانس لی، کسی نے ہنسی میں سب کچھ اڑا دیا۔ میں گاڑی میں بیٹھا مگر ذہن وہیں رہ گیا تھا، کھڑکی سے باہر سرد پہاڑ، خاموش درخت اور جمی ہوئی زمین دکھائی دے رہی تھی اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے فطرت بھی ہم سے کچھ کہنا چاہتی ہو مگر ہم سننے کے عادی نہیں رہے تھے۔ اسی لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اگر زبان سے خوف پیدا ہو جائے تو علم محض ڈگری بن کر رہ جاتا ہے اور تہذیب محض ایک لفظ اردو ختم نہیں ہو رہی ہم اسے چھوڑ رہے ہیں اور جو قوم اپنی تہذیبی زبان چھوڑ دے وہ آہستہ آہستہ خود سے بھی بیگانہ ہو جاتی ہے۔ اس دن میں گھر تو پہنچ گیا مگر ایک سوال میرے ساتھ تھا، ایسا سوال جو نہ امتحان میں آیا تھا نہ کسی نصاب میں شامل تھا، کیا ہم واقعی تعلیم یافتہ ہیں یا صرف سند یافتہ اور یہی سوال چوتھے سیکشن سے کہیں بڑا تھا۔
���
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
موبائل نمبر؛9622881110