جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر سب ڈویژن کے بلاک بالاکوٹ کی کانگڑھ گلہوتہ پنچایت میں پنچایت گھر کی تعمیر گزشتہ بائیس برسوں سے مکمل نہ ہو پانے کے باعث مقامی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پنچایت گھر کی عدم دستیابی نے نہ صرف گرام سبھا کے اجلاسوں کے انعقاد کو متاثر کیا ہے بلکہ پنچایتی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور عمل آوری میں بھی سنگین رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ بائیس سالوں کے دوران کئی افسران اپنی ذمہ داریاں سنبھال کر جا چکے ہیں اور متعدد سرپنچ اپنے اپنے ادوار مکمل کر چکے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آج تک پنچایت گھر کی تعمیر پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی۔ عوام کے مطابق مختلف ادوار میں اس منصوبے کے لئے سرکاری رقومات بھی منظور ہوئیں، تاہم یا تو کام شروع ہی نہ ہو سکا یا پھر ادھورا چھوڑ دیا گیا، جس سے عوامی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔علاقہ مکینوں نے الزام لگایا کہ ابتدائی مرحلے میں جو ڈھانچہ تعمیر کیا گیا تھا، وہ بھی وقت کے ساتھ خستہ حال ہو کر تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سرکاری خزانے سے جاری کی گئی رقومات ضائع ہوئیں جبکہ عوام کو اس منصوبے کا کوئی عملی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ مقامی افراد اس صورتحال کو انتظامی غفلت، ناقص نگرانی اور جوابدہی کے فقدان کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔عوام کا مزید کہنا ہے کہ پنچایت گھر نہ ہونے کے باعث گرام سبھا کے اجلاس کھلے مقامات یا عارضی جگہوں پر منعقد کرنے پڑتے ہیں، جس سے بزرگوں، خواتین اور معذور افراد کو شرکت میں شدید دشواری پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں پر عوامی مشاورت اور شفافیت کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے، جو پنچایتی راج نظام کی روح کے منافی ہے۔گلہوتہ کانگڑھ پنچایت کے مکینوں نے محکمہ دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور پنچایت گھر کی تعمیر کو فوری طور پر یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاخیر اور مبینہ مالی ضیاع کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ پنچایت گھر صرف ایک عمارت نہیں بلکہ دیہی جمہوریت اور انتظامی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا ہے۔ اگر حکومت واقعی مضبوط پنچایتی نظام اور گرام راج کی خواہاں ہے تو گلہوتہ کانگڑہ جیسی پنچایتوں میں بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام اس دیرینہ مسئلے کا جلد از جلد حل نکال کر پنچایت گھر کی تعمیر مکمل کرائیں گے۔