اگر ہم صدق دلی کے ساتھ تمباکو کے استعمال سے ہونے والی سنگین بیماریوں اور صحت کو پہنچنے والے نقصانات کی بات کریں تو ہرذی حِس فرد ،چاہے وہ سگریٹ نوش ہو یا نہ ہو،کے ذہن میںیہ بات اُبھر آتی ہےکہ تمباکو کا استعمال انسان کی صحت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ اس کے استعمال سے گریز نہیں کرتے ہیںبلکہ سوشل میڈیا اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے دُنیا بھر کے نوجوان تیزی کے ساتھ تمباکو نوشی اور تمباکومصنوعات کی طرف راغب ہو رہے ہیں،جسے ایک تشویشناک رُجحان قرا ر دیا جاسکتا ہے۔حالانکہ دنیا بھر کے سروے رپورٹس سے مسلسل یہ ظاہر ہورہا ہے کہ زیادہ تر ممالک میں 13 سے 15 سال کی عمر کے بچے تمباکو اور نکوٹین والی مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔جس سے اس بات کا خدشہ پروان چڑھتا چلا جا رہا ہے کہ نوجوان نسل میں سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رُجحان اب بہت سے ممالک میں کافی حد تک خطرناک صورت اختیارکرچکا ہےجبکہ ہمارا ملک بھی اسی صورت حال سے دوچار ہے۔
عالمی سروے ریکارڈز کے مطابق دُنیا بھر میں13 سے 15 سال کی عمر کے 38 ملین سے زیادہ بچے کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کر رہے ہیں،جبکہ 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں تمباکو نوشی کی لت میںایک سو فیصد تک کا اضافہ ہواہے۔حالانکہ ماہرین صحت کے مطابق مختلف اقسام کے کینسرز کا سب سے بڑا سبب تمباکو ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی 90 فیصد اموات کی وجہ صرف تمباکو نوشی ہے۔ماہرین و محققین کےبقول انسانی صحت کے لئے تمباکو نوشی اور تمباکو کے استعمال مختلف قسم کی دیگرمہلک بیماریوں کا بھی سبب بن رہے ہیں،جن میں نظام ِانہضام جیسے ، لبلبہ، معدہ، منہ، جگر، بڑی آنت اور غذائی نالی میں خطرناک پیچیدگیاں پیدا ہوجانا ہے،نیز اعصابی عوارض، جیسے فالج، ڈیمنشیا ،دل کی بیماری، پھیپھڑوں کی بیماری، ذیابیطس ، تپ دق ،آنکھوں کی بعض بیماریاں بھی قابلِ ذکر ہیں۔محققین کے مطابق تمباکو سے ہر سال دنیا بھر میں نہ صرف ایک کروڑ سے زیادہ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں بلکہ اس سے ماحول پر بھی بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔تمباکو سے تقریباً 35 لاکھ ہیکٹر رقبے پر ماحول متاثرہو رہا ہے،ساتھ ہی تمباکو اُگانے کے لئے ہر سال 2 لاکھ ہیکٹر جنگلات، تمباکو کی کاشت کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیںجبکہ اس کی کٹائی سے مٹی کا بھی کٹاؤ ہوتا ہے۔اسی طرح دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 4.5 لاکھ کروڑ سگریٹ کےبِٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جاتاہے، جس کی وجہ سے ہر سال 80 کروڑ کلو گرام زہریلا کچرا پیدا ہوجاتا ہے جسے پانی اور مٹی میں چھوڑا جاتا ہے،جس سے پیدا ہونے والے انسان دشمن بیکٹریا ہَوا میں مل جاتے ہیں،جس کے نتیجے میں جہاں ماحولیات پرا گندہ ہو کر بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے ،وہیں کرہ ارض پر انسانی زندگی کی بقاء کے لئے موجود پینے کا پانی بھی آلودہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
ذرایع ابلاغ کی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہمارے ملک کی سات ریاستوں میں92 فیصد لوگ کھانے والا تمباکو ،یعنی گٹکا استعمال کررہے ہیں،جبکہ تمباکو کی صنعت،مختلف حکمت عملیوںکے تحت نئی مصنوعات کی شکلوں میں مارکیٹ میں پھل پھول رہی ہے۔چنانچہ تمباکو مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ پر ہمارے یہاں سخت ضابطوں پر عمل نہیں ہورہا ہے ،اس لئے تمباکو مصوعات کا استعمال بھی خطرناک حد تک بڑھتا چلا جارہا ہےاور جو ہماری نوجوان نسل کو براہ ِراست مختلف مہلک بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار کرتا ہےاور مرنے والوں کی تعداد کو کم کرنے والی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمباکو نوشی اوت تمباکو مصنوعات کے استعمال سے پیدا ہونے والے مہلک محرکات پر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کریںاور نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنی نوجوان نسل کو تمباکو کی لت سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم آنے والی نسل کو تمباکو کی مصنوعات اور گمراہ کن آن لائن اشتہارات سے بھی بچائیں ۔ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لئے دستیاب قوانین کو بھرپور طریقے سے نافذ کریں اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمباکو کے استعمال میں مسلسل کمی آئے۔