جاوید اقبال
مینڈھر// جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات کے انعقاد میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ کانفرنس نے حکومتِ جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں پنچایت انتخابات کے لئے فوری طور پر ایک واضح، حتمی اور قابلِ عمل ٹائم لائن کا اعلان کیا جائے، تاکہ مقامی جمہوریت کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔بی اے ڈی سی کے چیئرمین اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے کہا کہ پنچایتیں جمہوری نظام کی سب سے بنیادی اکائی ہیں اور عوام کو طویل عرصے تک منتخب نمائندوں سے محروم رکھنا نہ صرف آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوریت کی روح کے بھی سراسر منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچ، سرپنچ اور بلاک سطحی ترقیاتی کونسلوں کی مدت ایک سال سے زائد عرصہ قبل ختم ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے تاحال کوئی واضح حکومتی اعلان سامنے نہیں آیا۔ڈاکٹر شہزادملک نے نشاندہی کی کہ منتخب پنچایتی نمائندوں کی عدم موجودگی کے باعث دیہی علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ گاؤں کی سڑکوں، پینے کے صاف پانی، بجلی کی فراہمی اور صفائی جیسے بنیادی مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ عوام کو اپنی شکایات اور مسائل پیش کرنے کے لئے کوئی منتخب نمائندہ دستیاب نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں حالات اور بھی تشویشناک ہیں، جہاں کے مکین روزمرہ مسائل کے حل کے لئے پنچایتوں پر گہرا انحصار کرتے ہیں۔ منتخب اداروں کی غیر موجودگی میں سرحدی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی آواز مؤثر طور پر اعلیٰ حکام تک نہیں پہنچ پا رہی۔بی اے ڈی سی کے چیئرمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اربن لوکل باڈیز کے انتخابات کے لئے بھی فوری طور پر واضح شیڈول جاری کیا جائے، جبکہ حدبندی اور ریزرویشن جیسے تمام زیرِ التوا امور کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، تاکہ پنچایت اور بلدیاتی انتخابات مزید تاخیر کے بغیر منعقد ہو سکیں۔