عظمیٰ ویب ڈیسک
بھدرواہ/جموں خطے کے دور افتادہ دیہات میں سردیوں کے موسم کے دوران، جب روزگار کی تلاش میں بڑی تعداد میں مرد ملک کے دیگر حصوں کی جانب ہجرت کر جاتے ہیںتو اس دوران خواتین پر مشتمل ولیج ڈیفنس گارڈز (وی ڈی جیز) دیہات کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھدرواہ ونود شرما نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تربیت حاصل کرنے کے بعد خواتین وی ڈی جیز کو303 رائفلز فراہم کی گئی ہیں اور انہیں دشوار گزار علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے، جہاں اکثر دیہات تنہا اور حساس ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرد وی ڈی جیز کے شانہ بشانہ تربیت حاصل کرنے والی یہ خواتین ملی ٹینسی خطرات کے خلاف اپنی بستیوں کے دفاع کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان کی موجودگی نے مقامی سکیورٹی انتظامات کو خاص طور پر اس وقت مضبوط کیا ہے، جب دیہات میں افرادی قوت کم ہو جاتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ خطے میں خواتین کا دیہی دفاع میں کردار نیا نہیں ہے۔ستمبر 2009 میں راجوری ضلع کے اپر کلسي سے تعلق رکھنے والی گوجر خاتون رخسانہ کوثر نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لشکر طیبہ کے ایک ملی ٹینٹ کو ہلاک کیا تھا، جس پر انہیں کیرتی چکر سمیت متعدد قومی و ریاستی اعزازات اور جموں و کشمیر پولیس میں ملازمت دی گئی تھی۔
شرما نے کہا کہ چناب کے پہاڑی علاقوں، خصوصاً ڈوڈہ میں، سخت سردیوں کے باعث بیشتر مرد اتراکھنڈ، دہلی اور ممبئی جیسے ریاستوں میں روزگار کی تلاش میں ہجرت کر جاتے ہیں۔ اس موسمی ہجرت کے نتیجے میں کئی دیہات میں صرف چند بزرگ رہ جاتے ہیں، جس سے یہ بستیاں ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ کمزور ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے پولیس نے خواتین کو وی ڈی جیز کے طور پر تربیت دی ہے۔
شرما نے کہا کہ یہ خواتین بھی ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اتنی ہی پُرعزم ہیں۔ ہم انہیں ملی ٹینسی خطرات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی اور طریقے سکھاتے ہیں۔ ان کی کارکردگی نہایت شاندار رہی ہے اور اب تک کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع کے دور دراز علاقوں میں درجنوں مسلح خواتین وی ڈی جیز کو گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جنہوں نے مرد ساتھیوں کی غیر موجودگی میں انسدادِ شورش اور اپنے دیہات کے تحفظ میں خود کو ایک قابلِ اعتماد قوت ثابت کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ خواتین پولیس اور فوج کی جانب سے دور افتادہ دیہات اور جنگلاتی علاقوں میں فراہم کی جانے والی تربیت میں سرگرمی سے حصہ لے رہی ہیں، جو ممکنہ ملی ٹینسی سرگرمیوں کے لیے حساس سمجھے جاتے ہیں۔
سیویلی گاؤں سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ وی ڈی جی رکن شیوانی نے کہا،’’ہمیں ملی ٹینٹوں سے لڑنے کی تربیت دی گئی ہے اور ہم سب ملک کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘شیوانی اور دیگر خواتین وی ڈی جیز ڈوڈہ کے گندوہ تحصیل میں، جو ہماچل پردیش سے متصل ہے، اپنے دیہات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ڈوڈہ خطہ 1990 کی دہائی میں ملی ٹینسی کے عروج کے دوران کئی قتلِ عام کا گواہ رہا ہے۔ وی ڈی جیز میں ہندو اور مسلمان دونوں برادریوں کے افراد شامل ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔شیوانی نے کہا،جب زیادہ تر مرد روزگار کے لیے ہجرت کر جاتے ہیں تو ہم اپنے کمزور دیہات کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔سیاسی نمائندوں نے بھی خواتین وی ڈی جیز کی بہادری کی ستائش کی ہے اور دور دراز و پہاڑی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے میں ان کے کردار کو سراہا ہے۔
بھدرواہ کے ایم ایل اے دلیپ سنگھ پریہار نے کہا،ہمارے علاقے کی خواتین ان پہاڑوں میں نہایت کٹھن زندگی گزارتی ہیں۔ مردوں کی غیر موجودگی میں انہیں ایندھن اور چارے کے لیے گھنے جنگلات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ان بہادر خواتین نے ولیج ڈیفنس گروپس میں شمولیت اختیار کی اور ان علاقوں کے محافظ بن کر ابھریں جو بصورتِ دیگر عسکریت پسند حملوں کے لیے کمزور ہو سکتے تھے۔بی جے پی کے اس رکنِ اسمبلی نے مزید کہا،یہ خواتین رانی لکشمی بائی، جھانسی کی رانی کی بہادری کی کہانیاں سن کر بڑی ہوئی ہیں، اور ہمارے پہاڑی علاقوں میں ایسی سینکڑوں بہادر خواتین موجود ہیں۔