جے کے این ایس
سرینگر//حکام نے کہاہے کہ جموں وکشمیرکی حکومت کشمیر میں مساجد، مدارس اور ان مذہبی اداروں کے انتظام سے وابستہ افراد کی ’پروفائلنگ‘ کا عمل شروع کیا ہے۔عہدیداروں نے بتایا ہے کہ گاؤں کے نمبرداروں (گاؤں کی سطح کے محکمہ محصولات کے ملازمین) کو مساجد، مدارس، اماموں ، اساتذہ اور ان مذہبی اداروں کے انتظامی کمیٹی کے ارکان کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ایک’ پروفارما ‘دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گنتی کی مہم کی توجہ مساجد اور مدارس کے مالیات پر ہے، جس میں تعمیر کیلئے استعمال ہونے والے فنڈز کا ذریعہ اور روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنا شامل ہے۔عہدیداروں نے کہا کہ معمول کی تفصیلات کے علاوہ مدارس کے اساتذہ اور ائمہ مساجد سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ، جائیداد کی ملکیت، سوشل میڈیا ہینڈل، پاسپورٹ، اے ٹی ایم کارڈ، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، سم کارڈ اور موبائل فون ماڈل کے ساتھ آئی ایم ای آئی نمبر کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس مہم کا مقصد مساجد اور مدارس اور ان سے وابستہ لوگوں کا ڈیٹا بیس بنانا ہے۔وائٹ کالر دہشت گردی کے ماڈیول کی تحقیقات کے دوران، جس کا گزشتہ سال نومبر2025 میں پردہ فاش کیا گیا تھا، یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مشتبہ افراد کو مدارس یا سوشل میڈیا کے ذریعے بنیاد پرست بنایا گیا تھا۔ سینئر عہدیدار نے بتایاکہ مولوی عرفان جیسے کچھ اماموں کے کردار نے بھی انہیں جانچ کے دائرے میں ڈال دیا ہے۔نمبرداروں کوفراہم کئے گئے ’ پروفارما ‘ میں مسلم فرقہ : بریلوی، دیوبندی، حنفی یا اہل حدیث کے بارے میں بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں ،جومسجد یا مدرسے کی پیروی کر رہے ہیں۔عہدیداروں نے کہا کہ پیوریٹنیکل اسلام کے عروج کو، جو صوفی ورژن سے نفرت کرتا ہے جس کی کشمیر میں بڑے پیمانے پر پیروی کی جاتی ہے، کو بھی وادی میں نوجوانوں کی بنیاد پرستی کے ایک عنصر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ائمہ مساجد، اساتذہ اور انتظامی کمیٹی کے ارکان سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی یا تخریبی سرگرمیوں میں ماضی میں ملوث ہونے کی تفصیلات فراہم کریں، جس میں کسی زیر التوا ء مقدمات یا عدالت کی طرف سے سزاؤں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
دینی ذمہ داران میں خوف پیدا کرنیکا قدم
منتخب حکومت فوری طور پر مداخلت کرے:متحدہ مجلس علما ء
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//متحدہ مجلسِ علماجو جموں و کشمیر کی اسلامی دینی تنظیموں کا سب سے بڑا اتحاد ہے، نے وادی میں پولیس کی جانب سے جاری اس کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔بیان کے مطابق مجلس کو معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی جانب سے تفصیلی، کئی صفحات پر مشتمل فارم تقسیم کیے جا رہے ہیں جن میں مساجد کے نظم و نسق اور انتظام سے وابستہ تمام افراد سے نہایت ذاتی اور حساس نوعیت کی معلومات طلب کی جا رہی ہیں، جن میں ذاتی شناختی تفصیلات، خاندانی کوائف، مالی معلومات، فون تفصیلات، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پروفائلز، پاسپورٹ کی تفصیلات، سفری تاریخ اور حتی کہ موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبرز تک شامل ہیں۔اس کے علاوہ مساجد کی مسلکی شناخت بریلوی، حنفی، دیوبندی یا اہلِ حدیث بھی طلب کی جا رہی ہے۔ اس غیر معمولی اور مداخلت پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اس کارروائی نے دینی اداروں، ائمہ و خطبا اور عام عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔مجلس علما واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی بنیادی حقوق، حقِ رازداری اور شخصی معلومات کے تحفظ سے متعلق آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مساجد عبادت، دینی رہنمائی اور سماجی خدمت کے مقدس مراکز ہیں اور ان کے اندرونی دینی معاملات کو من مانی نگرانی اور مداخلت پر مبنی جانچ پڑتال کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جس نوعیت اور جس حد تک معلومات طلب کی جا رہی ہیں وہ کسی بھی معمول کے انتظامی تقاضے سے کہیں بڑھ کر ہیں، جو نیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں اور اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ مذہبی اداروں کو جبر اور نگرانی کے ذریعے منظم طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجلس علما شدت کے ساتھ یہ محسوس کرتی ہے کہ اس معاملے میں منتخب حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے اور اس کارروائی کو فی الفور روکا جانا چاہیے کیونکہ یہ اعتماد کو مجروح کرتی ہے، دینی ذمہ داران میں خوف پیدا کرتی ہے اور ریاست کی مسلم برادری کے لیے ایک نہایت تشویشناک پیغام دیتی ہے۔ اس طرح مساجد اور دینی شخصیات کو الگ سے نشانہ بنانے والے اقدامات غیر منصفانہ، غیراخلاقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔متحدہ مجلسِ علما لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کارروائی کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لیا جائے، دینی اداروں کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور شہریوں کے مذہبی آزادی، حقِ رازداری اور وقار سے متعلق آئینی ضمانتوں کی پاسداری کی جائے۔مجلس اپنے رکن اداروں اور سینئر دینی قیادت کا ایک اجلاس جلد طلب کرے گی تاکہ اس مسئلے پر غور کیا جا سکے اور اگر یہ کارروائی جاری رہی تو آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جا سکے۔