عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازی کیس کی جانچ اب نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ اس سے پہلے اس کیس کی جانچ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کر رہی تھی، افسران نے منگل کو اس بات کی جانکاری دی۔مرکزی ایجنسی نے اپنی جانچ شروع کر دی ہے اور اس میں ملوث تمام مبینہ سنڈیکیٹ کا پتہ لگا کر اور مبینہ نیٹ ورک سے منی ٹریل کو فالو کر کے جانچ کا دائرہ بڑھائے گی۔ اس معاملے کی جانکاری دینے والے عہدیداروں نے بتایا کہ این آئی اے نے گذشتہ ہفتے دہلی پولیس سے کیس اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد اس معاملے میں ایک نئی ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔ یہ فیصلہ وزارت داخلہ (MHA) کی جانب سے ہدایات ملنے کے بعد لیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی امیگریشن کو فروغ دینے والے اور سیکورٹی خدشات پیدا کرنے والےمبینہ منظم نیٹ ورکس پر کارروائی کی جا سکے۔اس کیس کو بنگلہ دیشی شہریوں سے جڑی ‘گہری سازش بتایا جا رہا ہے۔ اس کیس کو شروع میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے قومی دارالحکومت میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران درج کیا تھا۔ اس سے پہلے، دہلی پولیس نے کم از کم دو ایف آئی آر درج کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ دہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی آمد کے پیچھے مبینہ طور پر ایک بڑی سازش ہے۔ دہلی پولیس کی کئی ٹیموں کو مبینہ ‘نیٹ ورک کے مختلف پہلوؤں کی جانچ کا کام سونپا گیا تھا، جس میں ‘بھارت میں غیر قانونی داخلے کے راستے، جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے والے سنڈیکیٹس، رہائش فراہم کرنے والے لوگ اور غیر قانونی تارکین وطن کو روزگار دلانے کرنے والے ایجنٹس شامل ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ دہلی پولیس کی ایف آئی آر کا مقصد بنگلہ دیش سے دہلی کی غیر قانونی ہجرت کرنے والے مبینہ منظم ڈھانچے کو بے نقاب کرنا اور مختلف سطحوں پر ملوث افراد کی شناخت کرنا ہے۔