سرینگر میں گروہ بے نقاب، نمونے تشخیص کیلئے بھیجے گئے
پرویز احمد
سرینگر //بیرون ریاستوں سے آئے ہوئے لوگوں کی جانب سے پٹریوں پرغیر معیاری غذائی اجناس فروخت کرنے والوں کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے محکمہ فوڈ سیفٹی کے افسران نے سوموار کو قمرواری کے برتھنہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں بہار اور راجستھان کے لوگوں سے غیر معیار اور مصنوعی شہد برآمد کیا۔ محکمہ فوڈ سیفٹی کو چند دن قبل شکایت موصول ہوئی تھی کہ برتھنہ قمرواری اور دیگر علاقوں میں غیر ریاستی افراد غیر معیاری گھی اور شہد فروخت کررہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی محکمہ فوڈ سیفٹی نے برتھنہ اورقمرواری کے دیگر علاقوں میں چھاپہ مار کر شہد اور گھی فروخت کرنے والے بہار اور راجستھان کے رہنے والے لوگوں کے قبضے سے شہد سے بھرے ڈرم بر آمد کئے اور نمونے اٹھاکر تشخیص کیلئے روزانہ کر دئے ۔ محکمہ فوڈ سیفٹی کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ کو 4دن قبل ایک شکایت موصول ہوئی تھی کہ قمرواری برتھنہ اور بارمولہ سرینگر راستے پر کئی غیر ریاستی افراد لوگوں کو کشمیری شہد اور گھی فراہم کرنے کے جھانسے میں غیر معیاری غذائی اجناس فروخت کررہے ہیں۔محکمہ نے قمرواری سے مہم کا آغاز کیا اور قمر واری اور بھرتھنہ کے مقام پر ٹینٹ میں رہنے والے غیر مقامی افراد سے شہد اور گھی برآمد کیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر فوڈ ہلال احمد میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شکایت موصول ہونے پر غذائی اجناس فروخت کرنے والے غیر ریاستی افراد کی جانچ پڑتال کیلئے خصوصی مہم شروع کی گئی جس دوران قمر واری اور بھرتھنہ میں کئی مقامات پر گھی اور شہد فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی گئی اور شہد ضبط کرکے نمونے تشخیص کیلئے بھیجے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی رجسٹرڈ کارخانہ دار نہیں ہیں اور اس وجہ سے فی الحال ان لوگوں سے برآمد شہد اور گھی کو ضبط کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ مزید کارروائی لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد شروع کی جائے گی۔