مشتاق الاسلام
پلوامہ//قصبہ پلوامہ کے ڈلی پورہ اور اس سے ملحقہ دیگر علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ مسلسل خشک سالی اور بارشوں کی غیر معمولی کمی کے باعث ضلع پلوامہ کے قدرتی آبی وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گھریلو سطح پر پانی کی قلت ایک بڑے انسانی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ علاقے میں موجود چشمے، ندی نالے اور دیگر قدرتی پانی کے ذخائر تقریباً مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں، جبکہ عوام کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت کھودے گئے کنویں اور نصب کیے گئے ٹیوب ویل بھی اب پانی دینے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال کے باعث گھروں میں پینے، پکانے اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے پانی دستیاب نہیں رہا۔ علاقہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت نے سب سے زیادہ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی خاندان روزانہ دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی وقت اور توانائی ضائع ہو رہی ہے بلکہ معمولاتِ زندگی بھی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ طلبہ کی تعلیم، بزرگوں کی صحت اور گھریلو نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ لوگوں نے متعلقہ محکموں پر سنگین صورتحال کے تئیں عدم توجہی کا الزام عائد کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) محکمہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر واٹر ٹینکروں کی فراہمی، نئے بورویلز کی کھدائی، ناکارہ ٹیوب ویلوں کی بحالی اور پائپ لائنوں کی فوری مرمت عمل میں لائی جائے۔علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید تشویشناک رخ اختیار کر سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔