طلباء کے مستقبل کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب لازمی:وزیر اعلیٰ
جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ حکومت میڈیکل کالج کی بندش سے متاثر ہونے والے طلبا کو دوسرے اداروں میں ایڈجسٹ کرکے ان کی تعلیم کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ اگر شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں معیار برقرار نہیں رکھا گیا تو جوابدہی طے کی جانی چاہئے۔ بی جے پی اور دیگر پر طنز کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ ملک بھر میں امیدوار میڈیکل کالج کی سیٹیں حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،ہم شاید واحد جگہ ہیں جہاں ہمیں مکمل طور پر تعمیر شدہ میڈیکل کالج ملا اور پھر بھی اسے احتجاج کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔دیگر کالجوں میں نیشنل میڈیکل کمیشن کے معائنے سے متعلق وزیر اعلیٰ نے پوچھا کہ معائنہ کس نے کیا اور کالج کو کیسے منظوری دی گئی؟۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو یونیورسٹی اور اس کے عہدیداروں سے اوپر سے نیچے تک سوال کرنا چاہیے کہ میڈیکل کالج بنانے کے بعد وہ معائنہ کیوں پاس کرنے میں ناکام رہا؟۔نیشنل میڈیکل کمیشن کے اس دعوے پر کہ معیارات پورے نہیں ہوئے، عبداللہ نے کہا کہ یہ معاملہ اور بھی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی کا سربراہ کون ہے اور اس کا چانسلر کون ہے؟ ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے، مجھ سے اکیلے سوال کرنے کی بجائے ان سے بھی پوچھیں۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر معیار برقرار نہ رکھا جائے تو احتساب ضرور ہونا چاہیے۔ “اگر آج بی جے پی خوش ہے کہ یونیورسٹی معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام ہے، تو کون ذمہ دار ہے اور کیا کارروائی کی جائے گی؟ ہم ان 50 طلبا کو ایڈجسٹ کریں گے، لیکن کسی کو طلبا کے مستقبل کو پہنچنے والے نقصان کا جواب دینا چاہئے،” ۔ آیا حکومت ادارے کو دی گئی مالی امداد واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے، عبداللہ نے کہا، “یہ امداد یونیورسٹی کو دی گئی تھی، ہم ایسے لوگ نہیں ہیں جو پیسے دیتے ہیں اور پھر واپس لے لیتے ہیں۔”بے روزگاری اور تنقید پر ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ کبھی کسی مسئلے سے پیچھے نہیں ہٹے۔انہوں نے کہا کہ مجھے بتائیں کہ میں نے کس مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہے، کوئی نہیں ہے، اگر کوئی مزید جواب چاہتا ہے تو اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے، اراکین وہاں سوالات اٹھا سکتے ہیں، ہم جواب دیں گے۔عبداللہ نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا، “وزیر صحت کیساتھ اس مسئلے پر اچھی طرح سے بات چیت کی ہے اور جیسا کہ میں نے کل سانبہ میں حکم جاری کرنے کے بعد کہا تھا، ان طلبا نے قانون کے مطابق NEET کا امتحان پاس کیا ہے، ان کامیرٹ ہے،” ۔انہوں نے کہا”انہیں ایڈجسٹ کرنا ہماری قانونی ذمہ داری ہے، ہم ان کے گھروں کے قریب کالجوں میں غیر معمولی نشستیں بنا کر انہیں ایڈجسٹ کریں گے تاکہ ان کی تعلیم کو نقصان نہ پہنچے،” ۔انہوں نے کہا کہ طلبا کو ایڈجسٹ کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا “ہم یہ کریں گے،” ۔تاہم، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو میڈیکل کالج کو بند کر کے طلبا کے مستقبل کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بھی غور کرنا چاہیے۔انہوں نے پوچھا”آج 50 نشستوں میں سے 40 پر مسلم طلبہ پر اعتراض اٹھایا گیا لیکن اگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کالج میں نشستوں کی تعداد بتدریج بڑھ کر 400-500 ہوجاتی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں 250-300 طلبہ جموں کے ہوتے، اب وہ طلبہ کہاں جائیں گے؟”