سمت بھارگو
راجوری//تاریخی مغل روڈ چوتھے روز بھی آمد و رفت کے لئے بند رہی، تاہم حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر موسم نے ساتھ دیا تو آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر سڑک کو دوبارہ ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ سڑک کی سطح پر شدید پھسلن ہونے کے باعث فی الحال گاڑیوں کی نقل و حرکت ممکن نہیں ہو پا رہی۔یہ اہم رابطہ سڑک پیر کی صبح تازہ برف باری کے بعد بند کر دی گئی تھی، جبکہ منگل اور بدھ کی صبح بھی ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری ہوتی رہی جس سے حالات مزید مشکل ہو گئے۔ برف ہٹانے کے باوجود شدید سردی کے باعث سڑک پر پالا جم گیا ہے جس کی وجہ سے پھسلن برقرار ہے۔اس سلسلے میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ سرنکوٹ فاروق خان نے بتایا کہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) گزشتہ تین دنوں سے مسلسل روڈ کلیئرنس کے کام میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی سطح سے جمع شدہ برف تو ہٹا دی گئی ہے، تاہم شدید ٹھنڈ کے باعث جمی ہوئی برف اور پالا ٹریفک کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جمعرات کے روز بھی بی آر او کے جوانوں اور مشینری نے کام جاری رکھا اور سڑک پر نمک کا چھڑکاؤ کیا گیا تاکہ جمی ہوئی برف کو پگھلایا جا سکے اور پھسلن کم کی جا سکے۔ایس ڈی ایم سرنکوٹ کے مطابق’ہماری ٹیمیں پوری تندہی کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور امید ہے کہ اگلے 48گھنٹوں میں مغل روڈ کو بحال کر دیا جائے گا، تاہم اس کا انحصار موسم کی صورتحال پر بھی ہے‘۔مغل روڈ کی بندش کے باعث پیر پنجال کے دونوں اطراف کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ یہ سڑک پونچھ اور راجوری اضلاع کو وادی کشمیر سے جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ عوام نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ بحالی کے کام میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ روزمرہ کی زندگی جلد معمول پر آ سکے۔