عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سابق کابینہ وزیر اور اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے بدھ کو نیشنل میڈیکل کمیشن کے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کو 2025-26کے اکیڈمک سیشن کے لئے ایم بی بی ایس کورس چلانے کے لیے دئے گئےاجازت نامہ (ایل او پی) کو واپس لینے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔این ایم سی نے مبینہ طور پر انفراسٹرکچر میں سنگین خامیوں کا حوالہ بشمول ناکافی فیکلٹی اور ناکافی طبی موادکے علاوہ دیگر کوتاہیوں کاحوالہ دیتے ہوئے اجازت واپس لے لی۔یک بیان میں غلام حسن میر نے ریگولیٹری باڈی کے فیصلہ سازی کے عمل پر سوال اٹھایا۔میر نے پوچھا’’نیشنل میڈیکل کمیشن کو ایک اہم سوال کا جواب دینا چاہیے کہ شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کو پہلے میڈیکل کالج کے طور پر کام کرنے کا اہل کیوں قرار دیا گیا تھا، اور اب اسے ایک سال کے عرصے میں کیوں نااہل قرار دیا گیا ہے؟ ان طلباء کے مصائب کی ذمہ داری کون لے گا جو اب غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں؟‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کے حکام کو بھی اس صورتحال کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔میر نے پرزور مطالبہ کیا کہ جن طلبہ کا حال ہی میں NEET کے ذریعے انتخاب کیا گیا ہے ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔انہوں نے زور دے کر کہا ک’’ان طلباء کو بغیر کسی دقت کے جگہ دی جانی چاہیے۔ انہیں دوسرے طبی اداروں میں رکھنے کے انتظامات کیے جائیں تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل خطرے میں نہ پڑے‘‘۔