سمت بھارگو+حسین محتشم
راجوری+پونچھ //تاریخی مغل روڈ، جو راجوری اور پونچھ اضلاع کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع سے جوڑتی ہے، شدید برف باری کے باعث مسلسل دوسرے روز بھی آمد و رفت کے لئے بند رہی۔ حکام کے مطابق سڑک کے بالائی حصوں پر بھاری برف جمع ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی نقل و حرکت معطل کر دی گئی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں سفر کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔مغل روڈ کی بندش سے راجوری اور پونچھ کے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں جو اس سڑک کو وادی کشمیر کے لئے ایک اہم متبادل راستے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ موسم سرما کے دوران جب جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پر اکثر ٹریفک متاثر ہوتی ہے، ایسے میں مغل روڈ خطے کے لوگوں کے لئے ایک بڑی سہولت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم حالیہ برف باری نے اس اہم رابطہ سڑک کو بھی عارضی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق پیر کی رات سے جاری برف باری کے نتیجے میں پیر پنجال کی پہاڑیوں اور مغل روڈ کے حساس مقامات پر کئی فٹ تک برف جمع ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے سڑک کو احتیاطی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک موسم میں بہتری نہیں آتی اور برف ہٹانے کا کام مکمل نہیں ہو جاتا، تب تک گاڑیوں کی آمد و رفت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوسری جانب بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے سڑک کو جلد از جلد کھولنے کے لئے برف ہٹانے کا کام تیز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق بھاری مشینری اور اضافی افرادی قوت کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ برف صاف کرنے کا عمل بغیر کسی تاخیر کے جاری رکھا جا سکے۔ بی آر او کے ایک افسر نے بتایا کہ اگر موسم نے ساتھ دیا تو آئندہ چند دنوں میں مغل روڈ کو جزوی یا مکمل طور پر کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مغل روڈ کی بندش سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ راجوری اور پونچھ کے تاجر جو روزمرہ اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کشمیر بھیجتے ہیں، انہیں بھی متبادل راستوں کی تلاش میں اضافی وقت اور پیسے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مریضوں اور طلباء کو بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے جو تعلیم یا علاج کے لئے وادی کشمیر کا سفر کرتے ہیں۔انتظامیہ نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مغل روڈ پر سفر سے گریز کریں اور سڑک کی صورتحال سے متعلق صرف سرکاری اطلاعات پر ہی بھروسہ کریں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر مصدقہ خبروں پر دھیان نہ دیا جائے کیونکہ یہ مسافروں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ادھر محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں مزید ہلکی سے درمیانی برف باری کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کے باعث سڑک کی بحالی میں کچھ تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم انتظامیہ اور بی آر او کی ٹیمیں پرامید ہیں کہ موسم بہتر ہوتے ہی مغل روڈ کو دوبارہ ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا، تاکہ سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کا کشمیر وادی سے زمینی رابطہ بحال ہو سکے۔