بلا شبہ سگریٹ نوشی بظاہر ایک عادت نظر آتی ہے، مگر اس کے دھوئیں میں چھپی ہوئی ہولناک حقیقت انسان کے بدن کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق تمباکو میں ایسے چار ہزار سے زائد زہریلے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جن میں سے 70 سے زیادہ ایسے عناصر ہیں جو سرطان یعنی کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی طبی تحقیقات متفق ہیں کہ سگریٹ نوشی ایک خاموش مگر یقینی قاتل ہے۔ پھیپھڑوں کا کینسر ہو یا منہ، حلق، معدہ، مثانے اور لبلبے کے مہلک امراض ان سب کے پیچھے سب سے مضبوط اور عام ترین وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ ہر کَش کے ساتھ، جسم کے خلیات ایسی تبدیلیوں کا شکار ہوتے ہیں جو بالآخر سرطان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔سگریٹ نوشی صرف پھیپھڑوں ہی کی دشمن نہیں بلکہ یہ انسان کے پورے جسم کو زہر آلود کر کے حواس اور نظامِ حیات کی بنیادیں ہلا دیتی ہے۔ دُھوئیں میں شامل کیمیکلز جب خون میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ایک خاموش تباہی کا آغاز کرتے ہیں۔ سب سے پہلے سانس کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں۔
مسلسل کھانسی، دمہ، سانس پھولنا اور دائمی پھیپھڑوں کی بیماریاں دھیرے دھیرے انسان کو روزمرّہ زندگی کے کاموں سے بھی بے بس بنا دیتی ہیں، منہ اور دانت براہِ راست زہر کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ مسوڑھوں کی سوجن، دانتوں کا تیزی سے سڑ جانااور سانس کی بدبو اُسے نہ صرف بیمار بلکہ دوسروں کے لئے بھی ناگوار بنا دیتی ہے۔تمباکو میں موجود نکوٹین انسانی جسم میں خون کی نالیوں کو تنگ کر دیتی ہے، جس کے باعث آنکھوں اور دماغ تک مطلوبہ آکسیجن نہیں پہنچ پاتی، جس سے نظر کی کمزوری، یادداشت میں کمی اور اعصابی کمزوری جنم لیتی ہے۔سگریٹ نوشی نہ صرف سگریٹ نوش کو تباہ کردیتی ہے بلکہ آس پاس کے ہر شخص کو بھی نقصان پہنچاتی ہے،گویا یہ نہ صرف اپنے نفس کے خلاف زیادتی ہے بلکہ دوسروں کے حقوق پر بھی حملہ ہے، یہ فضول خرچی بھی ہے، نشے کی لت بھی اور خودکشی کی ایک خاموش صورت بھی۔
ہماری نوجوان نسل اس بات سے بالکل بے خبر ہے کہ نیکوٹین کا کیمیائی جادو اُن کے جسم اور ذہن میں ایسی انحصاری کیفیت پیدا کرتا ہے کہ انسان سگریٹ نہیں پیتا بلکہ سگریٹ انسان کو پینے لگ جاتی ہے۔ سگریٹ تو دھوئیں میں جل کر راکھ بن جاتی ہےلیکن وہ اپنے ساتھ ساتھ انسان کی جیب ہی نہیںبلکہ اُس کی زندگی کوبھی جلا کر خاک میں ملا دیتی ہے۔حالانکہ ہماری تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ کرسٹوفر کولمبس آج سےقریباً ایک ہزار سال قبل یعنی1492 ء میںجب اپنے ملاحوں کے ساتھ نئی دنیا پہنچا تو مقامی باشندوں نے انہیں تمباکو سے شناسا کرایا،جو ایک نئی، انوکھی اور نشہ آور شے تھی۔ لہٰذا یورپ جاتے ہی اشرافیہ اور فوجی طبقہ اِس نشیلی شٔے کا دلدادہ ہو گئے،اور جب اسپین اور پرتگال سے تمباکو بحری جہازوں میں عالمی منڈیوں تک جا پہنچا اور فروغ پایا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شوق اور عادت، آخرکار منفعت بخش کاروبار بن گیا۔ اٹھارہویں صدی کے صنعتی انقلاب نے اسے ایک باقاعدہ صنعت بنا دیا۔ تمباکو خشک کرکے، باریک کاٹ کر پائپ اور چرس (cigars) کی شکل میں بیچا جانے لگا،پھر تباہ کن مرحلہ 1880ء میں اُس وقت آیا، جب جیمز بونسا کنگ نے سگریٹ بنانے کی مشین ایجاد کی،جو ایک منٹ میں ہزاروں سگریٹ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
بڑی بڑی کمپنیاں اشتہارات کے ذریعے سگریٹ کو فیشن اور آزادی کی علامت بنا گئیں۔ کھیل اور فلمی دنیا میں سرمایہ لگا کر ہیروز کے ہاتھ میں سگریٹ تھما دیا گیا۔ نکوٹین کی لت کو چھپا کر منافع کی ہوس بڑھائی گئی اور اس طرح سگریٹ نوشی صرف عادت نہیں رہی، ایک عالمی وباء میں تبدیل ہو گئی۔جس سے اگرچہ دنیا بھر میںسالانہ 80لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں،لیکن اس تجارت کا حجم پھر بھی کھربوں ڈالر ہے۔الغرض سگریٹ نوشی نہ صرف وہ دشمن ہے جو انسان کی جیب، صحت، ایمان اور خاندان سب پر حملہ آور ہوتی ہے بلکہ یہ ایک خاموش خودکشی ہےجو آہستہ آہستہ انسانی جسم کو کھا جاتی ہے،جبکہ یہ حقیقت تکلیف دہ ہے کہ آج سگریٹ نوشی’نشہ’نہیں بلکہ ایک منظم سرمایہ دارانہ غلامی بن چکی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ دُھواں اُڑا رہا ہے حالانکہ دُھواںاس کی زندگی اُڑا رہا ہے۔ اس تمہید کا مقصد خوف دلانا نہیں بلکہ زندگی کی قدر جگانا ہے۔کیونکہ اسلام نے ہمیں طہارت، صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم دیا ہے جبکہ سگریٹ نوشی ان سب احکامات کی کھلی نافرمانی ہے۔