بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر سے ملک کے مختلف شہروں کیلئے ہوائی سفر غیر معمولی طور پر مہنگا ہو چکا ہے، یہاں تک کہ کئی اندرونِ ملک پروازوں کے کرایے بین الاقوامی سفر کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف سیاحتی شعبے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ تعلیم اور علاج و معالجہ کی غرض سے سفر کرنے والے طلبہ اور مریضوں کے لیے بھی مشکلات بڑھا دی ہیں۔موجودہ کرایوں کے مطابق سرینگر سے دہلی کا یک طرفہ ٹکٹ 9 سے 11 ہزار روپے، ممبئی 13 سے16 ہزار، کولکتہ 17 ہزار، حیدرآباد 18 ہزار، چنئی اور احمد آباد 19 ہزار جبکہ بنگلور کا کرایہ 25 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے برعکس دہلی سے دبئی 28 ہزار، کولمبو 15 ہزار، ڈھاکہ 13 ہزار اور کاٹھمنڈو صرف 11 ہزار روپے میں ہے۔ اسی طرح سنگاپور 21 ہزار، کولالمپور 18 ہزار، بنکاک 14 ہزار اور تاشقند 13 ہزار روپے میں پہنچا جا سکتا ہے۔
اس غیر متوازن صورتحال کے باعث سیاحوں کے لیے کشمیر کا سفر مہنگا ہو گیا ہے، جبکہ وہ افراد جو علاج یا تعلیم کے لیے فوری طور پر وادی سے باہر جانا چاہتے ہیں، شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ پہلے ہی تعلیمی اخراجات زیادہ ہیں، ایسے میں مہنگے ہوائی ٹکٹ ان کے لیے ایک اضافی بوجھ بن گئے ہیں۔ مریضوں اور ان کے اہل خانہ بھی بروقت علاج کے لیے سفر کی منصوبہ بندی میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس کا براہِ راست اثر وادی کی سیاحت پر پڑے گا۔ اگرچہ ان دنوں کشمیر میں سیاحوں کی آمد عروج پر ہے، تاہم بڑھتے ہوئے سفری اخراجات آئندہ دنوں میں سیاحتی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سیاحوں اور عام مسافروں نے بھی ہوائی کمپنیوں کی جانب سے ٹکٹوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر ناراضگی ظاہر کی ہے، خاص طور پر اس وقت جب زمینی راستوں پر کوئی بڑی رکاوٹ درپیش نہیں۔ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ ہر سال یہ مسئلہ سامنے آتا ہے، مگر اس بار موسمِ سرما سے پہلے ہی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے ،ٹراول ایجنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری سجاد کرالیاری نے کہا کہ یہ معاملہ اب معمول بن چکا ہے اور اسے بارہا مقامی انتظامیہ کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے، مگر حل نہیں نکلا۔ ان کے مطابق اب اس پر مرکزی حکومت کو سنجیدگی سے مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہوائی نشستیں محدود ہو جاتی ہیں تو سیاحوں کو کئی دن بعد ٹکٹ ملتی ہے، تب تک ان کی بکنگ اور سفری منصوبے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں، جس سے سیاحتی صنعت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔کرالیاری نے خبردار کیا کہ اگر سرینگر،جموں قومی شاہراہ برفباری کے باعث بند ہو گئی تو ہوائی کرایوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو حالات کو اور بھی پیچیدہ بنا دے گا۔اربن ٹورس اینڈ ٹروالز کے جان محمد نے بھی بتایا کہ موسم سرما میں ہوئی کرائیوں کو کم کیا جانا چاہے تھا،تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں آسکیں تاہم اس کے برعکس ہوتا ہے۔