راجا ارشاد احمد
گاندربل//گاندربل کے مضافات گوٹلی باغ سے ملحقہ وائل وڈر بالا کے گرد نواح میں واقع عثمان محلہ کے لئے زیر تعمیر فلٹریشن پلانٹ پر دو سال سے جاری کام میں سرعت لانے کی مقامی آبادی نے مانگ کی ہے۔ گوٹلی باغ کے متعدد علاقوں جن میں عثمان محلہ، نقشبد محلہ سمیت دیگر علاقہ جات شامل ہیں،کو سالوں سے پینے کے صاف پانی کی قلت کاسامناہے اوران علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو دور دور سے پانی لاکر اپنی ضروریات کو پورا کرنا پڑتا ہیں۔ عثمان محلہ، شاہ محلہ اور نقشبد محلہ کو سالوں قبل کنگن کے علاقہ ہائن فلٹریشن پلانٹ سے پانی کی فراہمی ہوتی تھی لیکن پائپ لائنوں میں تیکنیکی خرابی آنے سے ان علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہو کر رہ گئی، جس کے بعد پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے آبادی کو گوٹلی باغ سے گزرنے والی بجلی کنال سے پانی لاکر استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم سال 2024 میں سابق ممبر اسمبلی گاندربل شیخ اشفاق جبار نے محکمہ جل شکتی کے اعلی حکام سے اس مسئلہ کو اٹھایا جس کے بعد دو کروڑ کی لاگت سے عثمان محلہ فلٹریشن پلانٹ کا منصوبہ بنایا گیا. جس پر پچھلے دو سال سے کام شدومد سے جاری ہے۔ عثمان محلہ کے مقامی شہری صنوبر خان نے اس بارے میں کشمیر عظمیٰ کو بتایا ،وائل وڈر بالا سے ملحقہ عثمان محلہ، شاہ محلہ، نقشبد محلہ سمیت دیگر علاقہ جات میںبرسوں سے پانی کی شدید قلت کاسامنا ہے۔. ہماری خواتین دن بھر سروں اور کاندھوں پر پانی کے مٹکے رکھ کر بجلی کنال سے پانی لاکر پانی کی ضروریات کو پوری کرتی ہیں۔ تاہم سابقہ ممبر اسمبلی گاندربل شیخ اشفاق جبار نے محکمہ جل شکتی کے اعلی افسران سے بات کرکے ان علاقوں کو پانی کی فراہمی کے لئے دو کروڑ کی لاگت سے فلٹریشن پلانٹ کا منصوبہ تیار کیا۔. سال 2024 سے عثمان محلہ فلٹریشن پلانٹ پر کام شروع کر دیا گیا۔. اب اس فلٹریشن پلانٹ پر 20 فیصدی سے زائد کام باقی رہ گیا ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے محکمہ جل شکتی کے اعلی حکام سے اس کام میں سرعت لاکر فوری طور پرکام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ان علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے۔