ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
وجاہت کاروبار اور روپے کمانے کے لئے امریکہ گیا ۔ کافی سال وہاں رہنے کے بعد بھی اس کا مقصد پورا نہ ہوا۔ کبھی یہ کام شروع کیا تو کبھی دوسرا کام ۔ کبھی اس کی شراکت کے ساتھ کبھی اس کے دفتر میں کام ۔ مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ آخر کار وہ ایک فوڈ کورٹ میں ملازم ہوا۔ وہاں کی تنخواہ سے گزارہ چلتا تھا۔ دو وقت کا کھانا بھی ملتا تھا۔ وہاں ایک اور لڑکی ملازمہ تھی ۔ اس کے ساتھ اس کی ملاقات ہوئی۔ یہ اس کو اپنا دکھڑا سناتا تھا اور وہ وہ اپنی پریشانیاں بتاتی۔ دونوں ہی غریب گھر سے تھے اور مسائل بھی ایک جیسے تھے ۔
وجاہت اپنی تنگ دامانی اور مفلسی کے باوجود نماز با قاعدگی کے ساتھ ادا کرتا تھا۔ یہ انگریز لڑکی اس کے اس کردار سے اور بات چیت سے بہت متاثر ہوئی ۔ اس وجہ سے اس کی اسلام میں دلچسپی بڑھی ، وہ اکثر نماز ، اسلام، حدیث کے بارے میں پوچھتی رہتی تھی اور اپنی معلومات میں اضافہ کرتی تھی۔
مختصر یہ کہ ایک ڈیڑھ سال کے اندر اندر اسے اسلام کی کافی معلومات ہوئیں اور اس کی حقانیت سے واقف ہوتی گئی ۔ اس نے اپنا مذہب بدلا اور پھر اس سے وجاہت نے شادی کی۔
ایک دن وجاہت کی ماں نے اس کو فون پر کہا کہ بٹیا! مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے۔ آپ چند دن کے لئے نہیں آسکتے؟ کیا چھٹی نہیں مل سکتی؟
ماں میں کس منہ سے آپ کے پاس آؤں، ایک تو میں حال ہی میں تھوڑا سا خود کفیل ہوا ہوں اور دوسرا میں نے آپ کی مرضی کے خلاف یہاں شادی کی ہے۔ لڑکی عیسائی تھی مگر میرے ساتھ رہ کر اس نے اسلام قبول کیا اور اس بعد میرے ساتھ شادی کی۔
کوئی بات نہیں بیٹا ! میں آپ سے ملاقات چاہتی ہوں آپ ضرور آؤ، بہو کو بھی ساتھ لاؤ۔ زندگی کا کیا بھروسہ؟
خیر ! وجاہت اور اس کی اہلیہ چھٹی لیکر ماں سے ملنے آئے ۔ گھر پہنچ کر ماں نے بڑی عزت سے دونوں کا استقبال کیا ۔ اچھی طرح بہو سے ملی اور گلے لگایا۔ بہو کو خدشہ تھا کہ ماں نہ جانے کیا سلوک کرے گی مگر اس کے برعکس اس کو بہت زیادہ عزت دی گئی ، وہ بہت خوش ہوئی۔
اس نے اپنی ساس کو نماز اور قرآن پڑھتے دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ وجاحت کی طرح اس کی ماں بھی نماز اور قرآن کی پابند ہے ۔ وہ ہر بات بسم اللہ سے شروع کرتی۔ چاہئے آٹا گوندھنا ہو یا سالن بنانا ہو ، چاول بنانے ہو ، کپڑے دھونے ہو یا اور کوئی کام کرنا ہو۔
بہو کو ساس کے کھانے میں بہت لذت اور مزہ آنے لگا۔
آخر اس نے وجاہت سے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ یہ بسم اللہ کی برکت ہے، جب واپس آنے کے دن قریب آتے گئے تو بہو نے وجاہت سے کہا کہ کیوں نہ ہم ماں کو بھی اپنے ساتھ امریکہ لے آئیں۔
ماں بڑی مشکل سے مان گئی۔ وہاں جا کر انہوں نے ماں کی صلاح سے ایک ماہ کے اندر اندر اپنا فوڈ کورٹ کھولا اور ماں کی ہدایت پر ہندوستانی کھانا بنانا شروع کیا۔ کھانا مزیدار بننے لگا۔
ہر گاہک کو پسند آیا۔ بہت مشہوری ہوئی ہندوستانی تو کیا انگریز لوگ بھی پسند کرنے لگے ، بہت کامیابی حاصل ہوئی ۔ کام بڑھ گیا ۔ اب اور ملازم بھی رکھے ۔ بزنس چمکنے لگا، امریکہ واپس آنے سے پہلے اہلیہ نے کہا کہ میں نے مغربی ماحول چھوڑ کر اسلامی ماحول اپنایا مگر آپ کی بھابھی نے اسلامی ماحول کو خیر باد کہ کر مغربیت اپنائی ہے۔ ہمارے لئے اچھا ہو گا کہ ہم جلد سے جلد اپنے اسلامی ماحول میں چلے جائیں۔
” میری ساس کو مجھ سے بہت پیار ہے اور یہ بات آپ کی بھابی کو برداشت نہیں ہو رہی ہے، اُسے شک ہو رہا ہے کہ وہ اپنی جائیداد ہمارے نام کرے گی کیوں نہ ایسا کریں کہ ہم اپنی ماں کو لیکر امریکہ چلے جائیں، اس سے بھابی کی پریشانی بھی دور ہو جائے گی ۔ ہم بھی بغیر لالچ کے ماں کی خدمت کریں گے۔ آپ اپنی ماں کی جنت کی پرواہ کرو ، ان کو دنیاوی خواہشات کی دولت حاصل کرنے دو ہم دونوں امریکہ جائیں گے ماں کو ساتھ لیکر وہاں ان کی خدمت کریں گے میں بھی کروں گی تم بھی اپنی جنت سنوارو ۔ بھائی ، بھیا کو اپنی دنیا سنوار نے دو۔
���
جموں،موبائل نمبر؛8825051001