پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں سال 2005سے اپ گریڈ کئے گئے پرائمری ہیلتھ سینٹروں کی حالت جوں ہی توں بنی ہوئی ہے اور بنیادی سطح پر لوگوں کونہ ہی شہری اور نہ ہی دیہی علاقوں میں بہتر طبی سہولیات بہم رکھ پاتے ہیںجس کی بڑی وجہ بنیادی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی ہے۔ جموں و کشمیر کے 890پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں سے صرف 264پر حاملہ خواتین کی زچگی سہولیات دستیاب ہے جبکہ عملے کی کمی کی وجہ سے صر ف 187ہی چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ اس دوران890پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں 95میں بجلی نہیں، 59میں پینے کیلئے صاف پانی نہیں جبکہ 102پرائمری ہیلتھ سینٹروں تک مریض پہنچنانے کیلئے راستے دستیاب نہیں ہے جبکہ بیشتر پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں ماہر ڈاکٹر دستیاب نہیں ہے۔ جموں و کشمیر سرکار سال 2018میں پرائمری ہیلتھ سینٹروں، کیونٹی ہیلتھ سینٹروں کو ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹروں میں تبدیل کرنے کی پالیسی اختیار کی تاکہ بنیادی سطح پر کام کرنیوالے ہیلتھ اور ویلنیس سینٹروں میں لوگوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں ۔ ان پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں بنیادی ڈھانچہ میں بہتری لانے کے علاوہ ہر ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ضرورت کے مطابق ہفتے میں 4دن ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی بات کی گئی لیکن پرائمری ہیلتھ سینٹروں کو نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر اور ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر میں تبدیل تو کیا گیا لیکن ان میں اب بھی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہے۔ مرکزی وزارت صحت کی ہیلتھ ڈائنمک رپورٹ 2023میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قائم پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں بنیادی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی شدید قلت سے جوج رہے ہیں۔ یہاں قائم 890پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں سے صرف 264میں ہی زچگی کی سہولیات دستیاب ہے۔ ان میں سے صرف 187یعنی صرف 21فیصد ہی 24گھنٹے طبی سہولیات فراہم کرنے کے اہل ہے ۔مرکزی وزارت صحت کی سالانہ ہیلتھ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہاں صرف336پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں کمپوٹر دستیاب ہے۔اس کے علاوہ 95میں بجلی نہیں، 59میں پینے کیلئے صاف پانی نہیں جبکہ 102پرائمری ہیلتھ سینٹروں تک مریض پہنچنانے کیلئے راستے دستیاب نہیں ہے۔ ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن بصیر الحق چودھری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بنیادی ڈھانچہ سرکار کو فراہم کرنا ہے لیکن نیشنل ہیلتھ مشن کا کام عملہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی پر بصیر الق چودری نے کہا ’’ہم نے جموں وکشمیر کے ہر طبی ادارے میں کم سے کم درکار عملے کی دستیابی کو یقینی بنایا ہے۔