حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ، کے وی ایف جی کا مرکزی وزیر کو مکتوب
سرینگر// کشمیر ویلی فروٹ گروورز اور ڈیلرز یونین نے نیوزی لینڈ سے درآمد ہونے والے سیب پر کسٹم ڈیوٹی 50فیصد سے کم کرکے 25فیصد کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونین نے اس فیصلے کو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت مقامی سیب صنعت کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔یونین کی جانب سے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو ارسال کردہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی میں کمی سے نہ صرف نیوزی لینڈ سے سیب کی درآمد میں اضافہ ہوگا بلکہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے معاہدوں کیلئے حوصلہ پائیں گے، جس سے کشمیر اور ہماچل پردیش کے مقامی سیب کاشتکاروں کی روزی روٹی کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی کاشتکار پہلے ہی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، غیر یقینی موسم، کیڑوں کے حملوں اور نقل و حمل کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے میں درآمدی سیب سستا ہونے کے باعث منڈیوں میں کشمیری سیب کی قیمتیں متاثر ہوں گی اور تاجر قدرتی طور پر درآمدی سیب کو ترجیح دیں گے۔یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی سیب صنعت کے تحفظ کیلئے نیوزی لینڈ سے درآمد ہونے والے سیب پر 100فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ کشمیر اور ہماچل کے چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کاشتکاروں کو تحفظ مل سکے اور ملکی سیب صنعت کو مضبوط بنایا جا سکے۔یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو مقامی سیب صنعت کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے اور ہزاروں خاندانوں کا معاش متاثر ہوگا۔