محتشم احتشام
پونچھ// نئے سال کی آمد پر جہاں خوشیوں اور امیدوں کا پیغام دیا جاتا ہے، وہیں جموں و کشمیر یوٹی کے ہزاروں ڈیلی ویجرز اور کیجول لیبرس ایک بار پھر مایوسی، عدم تحفظ اور ناانصافی کے سائے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔گزشتہ پچیس سے تیس برسوں سے یہ محنت کش طبقہ مستقل روزگار، مناسب اجرت اور بنیادی حفاظتی سہولیات سے محروم ہے، جس کے باعث ان کی زندگی مسلسل کرب اور غیر یقینی کا شکار رہی ہے۔آل جموں کشمیر پی ڈی ڈی کیجول لیبرس و ڈیلی ویجرس یونین پونچھ کے ضلعی صدر چودھری فاروق پونچھی، نائب صدر گلریز مناص اور دیگر باڈی ممبران نے ایک اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران سینکڑوں ڈیلی ویجرز اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں جبکہ سینکڑوں کارکن مختلف حادثات میں اپاہج ہو گئے۔ اس کے باوجود یہ مزدور اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے نبھاتے رہے اور بجلی جیسے حساس شعبے میں خدمات انجام دیتے رہے، مگر ان کے مسائل پر آج تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نئے سال کے موقع پر حکومت کی جانب سے کم از کم ایک ایسا عملی قدم اٹھایا جانا چاہیے جو ان مظلوم محنت کشوں کیلئے امید کی کرن ثابت ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یوٹی لداخ اور یوٹی دہلی کی طرز پر جموں و کشمیر یوٹی میں بھی ڈیلی ویجرز اور کیجول لیبرس کے لئے مینیمم ویجز کا فوری اعلان کیا جائے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔مزید برآں، پی ڈی ڈی میں کام کرنے والے ڈیلی ویجرز کے لئے حفاظتی کٹس کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بجلی کے شعبے میں کام انتہائی خطرناک ہوتا ہے، جہاں معمولی غفلت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے میں حفاظتی آلات کی عدم دستیابی کھلی ناانصافی ہے۔یونین نے گورنمنٹ آف جموں و کشمیر یوٹی اور مرکزی سرکار سے پرزور اپیل کی ہے کہ نئے سال کے تحفے کے طور پر تنخواہوں میں اضافے کا اعلان اور حفاظتی کٹس کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تاکہ برسوں سے انصاف کے منتظر ڈیلی ویجرز اور کیجول لیبرس کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچ سکے اور انہیں وہ حق مل سکے جس کے وہ عرصہ دراز سے مستحق ہیں۔