عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //قومی راجدھانی میں ہوا کی سمت تبدیل ہونے کے باوجودلوگوں کو آلودگی سے راحت نہیں ملی۔بدھ کی صبح کی شروعات کہرے اور آلودگی کی موٹی تہہ کے درمیان ہوئی۔ شدید کہرے نے آسمان کو اپنی گرفت میں لے رکھا، جس سے کئی علاقوں میں حد بصارت بے حد کم ہو گئی ہے۔ مزید برآں لوگوں کو آنکھوں میں جلن اور سانس کے مریضوں کو پریشانی محسوس ہوئی۔ وہیں این سی آرمیں بھی شدید کہرا چھایا رہاجس کی وجہ سے حد بصارت کافی کم ہوگئی۔ سڑک سے لے کر ہوائی ٹریفک تک اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ایئر کوالٹی ارلی وارننگ سسٹم کے مطابق بدھ کی صبح راجدھانی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 383 درج کیا گیا۔ یہ ہوا کا بے حد خراب زمرہ ہے۔ وہیں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے پیش گوئی کی ہے کہ بدھ کو ہوا کا معیار سنگین زمرے میں پہنچنے کا امکان ہے۔ جس کی وجہ سے سانس کے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں کو آنکھوں میں جلن، کھانسی اور سردرد جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بدھ کی صبح گھنے کہرے کی وجہ سے 150 پروازیں منسوخ کی گغيں، دو کا رخ موڑا گیا اور 400سے زیادہ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔دہلی ہوائی اڈے کے حکام نے بتایا کہ کل صبح 11 بجے تک، دوسرے شہروں سے آنے والی 79 پروازیں اور دہلی سے روانہ ہونے والی 71 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ دو پروازوں کا رخ دوسرے شہروں کی طرف موڑ دیا گیا۔اس کے علاوہ آمد اور روانگی کی 400 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہونے کی اطلاع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سویرے 2:30 بجے کے بعد ایئرپورٹ پر حد نگاہ 600 میٹر سے کم ہو کر 50 میٹر ہوگئی۔دہلی ہوائی اڈے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ فلائٹ آپریشن صبح 3 بجے کیٹ-3 موڈ کے معاون آلات کی مدد سے شروع کیا گیا اور صبح 9 بجے تک جاری رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف کیٹ-3 سے لیس طیارے اور اس کے لیے تربیت یافتہ پائلٹ اس دوران لینڈنگ یا ٹیک آف کر سکتے تھے۔ماہرین کے مطابق راجدھانی میں ہوا کا معیار مسلسل خراب ہونے کی سب سے بڑی وجہ موسم کی بے وفائی ہے۔ اسکائی میٹ کے نائب صدر مہیش پلاوت کے مطابق درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے آلودگی کی سطح میں بھاری اضافہ ہوا ہے اور مغربی ڈسٹربنس کی وجہ سے منگل کو بھی ہوا کا معیار خراب رہا ۔