اے سی بی متحرک ،مزید گرفتاریاں اورجائیدادوں کی ضبطی متوقع
بلال فرقانی
سرینگر//سال 2025 کے دوران اینٹی کرپشن بیورو نے جموں و کشمیر نے بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 73 مقدمات درج کیے۔ ان مقدمات میںرشوت ستانی، ناجائز اثاثے، اختیارات کے غلط استعمال، زمینوں میں غیر قانونی انتقال، سرکاری بھرتیوں میں بے ضابطگیاں اور مالی گھپلے شامل ہیں۔ کشمیر صوبے میں انسداد کورپشن بیورو کی جانب سے 30 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ کیس ’اے سی بی ‘سرینگر میں سامنے آئے۔ان میں سرینگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے چیف فائنانشل افسر اور ایگزیکٹو انجینئر کے خلاف ناجائز اثاثوں کے مقدمات شامل ہیں، جو شہری ترقی کے بڑے منصوبوں میں شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔کشمیر میںہوکرسَر ویٹ لینڈ کی ڈریجنگ کے دوران بے ضابطگیوں، ڈائریکٹوریٹ آف ٹورازم کشمیر میں مالی گھپلے، ’ایویکی‘ جائیداد اراضی اسکینڈل اورغیر قانونی پیٹرول پمپ تعمیر کیس (بڈگام) جیسے سنگین معاملات بھی اے سی بی کی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ محکمہ بجلی، جل شکتی، جیالوجی اینڈ مائننگ،دیہی ترقی اور مال کے ملازمین کے خلاف متعدد’ٹریپ کیس‘ درج کیے گئے، جن میں رشوت کی رقم 2,000 سے روپے50,000 تک رہی۔ ایک نمایاں کیس میں سرینگر کے ایک ڈی ڈی سی رکن اور اس کے مبینہ ایجنٹ کو رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ 20دسمبر کو شوپیان میںاینٹی کرپشن بیورو نے ایک بدنام زمانہ پٹواری عاشق حسین شاہ کو اس وقت رنگے ہاتھوں دھر لیا جب وہ ایک شہری سے 25ہزار روپے کی رشوت وصول کررہا تھا ۔مذکورہ پٹواری پر ماضی میں رشوت وصولنے اور کروڑوں روپے مالیت کی غیر قانونی جائیداد بنانے کے بھی الزامات لگ چکے ہیںاور لوگ اس کی غیر قانونی جائیداد کا پتہ لگانے کی مانگ کرہے ہیں ۔اے سی بی اننت ناگ نے پٹواریوں اور دیہی ترقی محکمے کے جونیئر انجینئر کے خلاف رشوت کے مقدمات درج کیے، جبکہ ایک پولیس اہلکار کے خلاف ناجائز اثاثوں کا کیس بھی سامنے آیا۔ادھر اے سی بی بارہمولہ نے ریٹائرڈ سپرنٹنڈنگ انجینئر، محکمہ خوراک و شہری رسدات کے اسٹور کیپر اور ایک تحصیلدار کے خلاف کارروائی کی، جس میں 1 لاکھ رشوت کا سنگین ٹریپ کیس شامل ہے۔جموں صوبے میں اے سی بی نے 43 مقدمات درج کیے، جن میں اے سی بی سینٹرل، جموں، ادھمپور، ڈوڈہ اور راجوری شامل ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ مقدماتغیر قانونی انتقالِ اراضی سے متعلق ہیں، جن میں پٹواری، تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور گرداور ملوث پائے گئے۔انسداد کورپشن بیورو جموںمیں درج کیے گئے مقدمات میں رشوت کے متعدد ٹریپ کیس شامل ہیں، جہاں پٹواریوں، پولیس اہلکاروں، محکمہ جنگلات کے افسران، عدالتی عملے اور ترقیاتی اداروں کے جونیئر افسران کو 8,000 سے روپے50,000 تک رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا۔اس کے علاوہ ریاستی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ، ناجائز اثاثے، اسکالرشپ اسکینڈل (ایس ٹی طلبہ) اور کوآپریٹو ہاؤسنگ کارپوریشن میں اختیارات کے غلط استعمال کے سنگین کیس بھی درج ہوئے۔جموں میں ایک بڑے مقدمے میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ میں فائر مین اور فائر مین ڈرائیورز کی بھرتی کے دوران بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس میںمحکمانہ سلیکشن بورڈ کے ارکان، تکنیکی کمیٹی، نجی آئی ٹی کمپنی اور مبینہ فائدہ اٹھانے والے افراد شامل ہیں۔مجموعی تجزیے کے مطابق سال 2025 میں درج کیے گئے 73 مقدمات میں سب سے زیادہ کیس محکمہ مال سے وابستہ اہلکاروں کے خلاف سامنے آئے، جس کے بعد پولیس، ترقیاتی محکمے، پاور، مائننگ اور تعلیم شامل ہیں۔ یہ صورتحال زمینی سطح پر گورننس کے سنگین بحران کی عکاس ہے۔اے سی بی حکام کے مطابق تمام 73 مقدمات کی تحقیقات مختلف مراحل میں ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں، جائیدادوں کی ضبطی اور چارج شیٹس متوقع ہیں۔ بیورو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رشوت یا بدعنوانی کی کسی بھی کوشش کی فوری اطلاع دیں۔