عشرت حسین بٹ
منڈی// سنیچر کو ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے علاقہ آڑآئی موری میں دوبھائیوںکے تین تین منزلہ رہایشی مکانات میں اچانک آتشزدگی کی وارداد پیش آئی جس کی وجہ سے گھروں سمیت گھروں میں رکھی ان کی زندگی تمام تر جمع پونجی کے ساتھ ساتھ سامان جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر سنیچر کی دوپہر کو غلام دین اور عبدل قیوم فرزندان محمد عبداللہ سکنہ آڑائی موری کے تین تین منزلہ مکانات میں اچانک آگ کی وارداد ہوئی جس دوران مکانات میں رکھا ہوا سارا سامان جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ اگر چہ مقامی لوگوں کی جانب سے آگ پر قابو پانے کی بہت زیادہ کوشش کی گی مگر آگ اتنی حولناک تھی کہ وہ اس کوشش میں ناکام ہو گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بہتر سڑک نہ ہونے کی وجہ سے فائر اینڈ امرجنسی کی گاڑی علاقہ میں نہ پہنچ سکی اور علاقہ میں پانی وافر مقدار میں نہ ہونے کی وجہ سے مکانات بہت جلدی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ منڈی تحصیل جو کہ ایک لاکھ سے زائد آبادی پرمشتمل ہے میں سرکار کی جانب سے فائر اینڈ ایمرجنسی کی محض ایک ہی گاڑی رکھی گئی ہے جو اس طرح کی واردتوں میں کام نہیں آتی چونکہ منڈی تحصیل کے دور دراز علاقے ایسے ہیں جہاں پر سڑکوں کی ناقص حالت کی وجہ سے اتنی بڑی گاڑی کا پہنچنا محال ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کو چاہیے کہ وہ منڈی میں بڑی گاڑی کے بجائے تین چار چھوٹی گاڑیوں کو رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کو استعمال میں لایا جا سکے۔ مقامی لوگوں نے سرکار اور ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ آتشزدگی کی وجہ سے ہوئے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے اور ان دونوں بھائیوںکی بہت جلد امداد کی جاہے تاکہ موسمی صورت حال کو دیکھ کر وہ اپنے سر پر چھت کا انتظام کر سکیں۔