عبدالرشید سرشار
شام کا وقت تھا۔ سورج ڈھل رہا تھا اور فضا میں ایک عجیب سی اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ ارشد کمرے کے ایک کونے میں تیوریاں چڑھائے بیٹھا تھا، جیسے دنیا بھر کی محفلوں سے اکتا گیا ہو۔ ماں نے پیار سے قریب آ کر کہا، “بیٹا! تیاری کر لو، کل ہمیں ننھیال جانا ہے۔”
ارشد نے جھنجھلا کر جواب دیا، “مما! میں نے کتنی بار کہا ہے کہ مجھے وہاں نہیں جانا۔”
ماں نے حیرت سے دیکھا۔ ممتا کی چھاؤں میں پلنے والے بچے کا یہ لہجہ اسے عجیب سا لگا۔ ”
کیوں میری جان؟ سردیوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں، اسکول سے جان چھوٹی ہے، چار مہینے بیت گئے نانی کو دیکھے ہوئے۔ وہاں تمہارے ماموں ہیں، ماموں زاد بھائی بہن ہیں، سب راہ تک رہے ہوں گے۔”
ارشد کے ماتھے پر تیوریاں آئیں۔ “مما! وہاں مجھے وہ عزت نہیں ملتی جس کا میں حقدار ہوں۔ ماموں جان مجھے اچھے ناموں سے نہیں پکارتے۔ وہاں ہماری حیثیت کسی بن بلائے مہمان جیسی ہوتی ہے۔”
ماں تڑپ اٹھی۔
“ارشد! تم نےجھوٹ بولنا کب سے سیکھ لیا ؟
تمہارے ماموں تو تمہیں پلکوں پر بٹھاتے ہیں۔ طرح طرح کے پکوان بناتے ہیں، عید پر پانچ سو روپے عیدی دی تھی۔ کیا یہ سب محبت نہیں؟”
ارشد نے اپنی انا کے زخم کریدتے ہوئے کہا،
“پیسوں سے محبت نہیں ناپی جاتی مما۔”
ماموں زاد میرے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلتا۔ میں آؤٹ ہو جاؤں تو دوبارہ بیٹنگ نہیں دیتا۔ اور یاد ہے جب میں نے سر منڈوایا تھا؟ سب مجھ پر ہنس رہے تھے۔ وہ ہنسی میرے دل میں نشتر کی طرح چبھی تھی۔”
نگینہ اپنے ضدی بیٹے کے رویئے سے مایوس ہوئی۔
پرنسپل صاحب ارشد کیسے ہیں؟
پرنسپل صاحب نے چشمہ درست کرتے ہوئے گہری سانس لی اور کہا،
“نیاز صاحب! ارشد ایک ایسا پودا ہے جو ٹیڑھا اُگ رہا ہے۔ معمولی باتوں پر دست و گریبان ہو جانا اس کا شیوہ ہے۔ ہمجولیوں کے ساتھ اس کا برتاؤ کسی طور مناسب نہیں۔ شرارت اس کے خمیر میں رچ بس گئی ہے۔”
نیاز صاحب کا سر ندامت سے جھک گیا۔ وہ جس بیٹے کو ہیرا سمجھتے تھے، اس کی چمک مدھم پڑتی دکھائی دے رہی تھی۔
السّلام علیکم اخلاق بھائی آپ کیسے ہیں؟
الحمد للہ ،آپ سنائیے
نیاز بھائی! برا نہ مانیئے گا، پر آپ کے صاحبزادے کو کونسلنگ ضرورت ہے۔
کھیل کے میدان میں جھگڑا کرنا تو چلو بچوں کی بات ہے، پر بس میں سوار ہوتے ہی سیٹ بدلنے کے بہانے دوسرے بچوں سے الجھنا اس کا روز کا معمول بن گیا ہے۔ کسی ماہرِ نفسیات کو دکھائیے، کہیں یہ چڑچڑاپن اس کی شخصیت کو نگل نہ لے۔”
نیاز صاحب نے جب ارشد کی ان شکایات اور گرد و نواح کے لوگوں کی باتوں پر غور کیا، تو انہیں احساس ہوا کہ ارشد کا مسئلہ صرف ضد نہیں، بلکہ ایک ایسا نفسیاتی مسئلہ ہے جسے سزا سے نہیں بلکہ ہمدردی سے دور کرنا ہوگا۔
وہ ارشد کو شہر کے ایک مشہور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر صابر کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ارشد سے اکیلے میں بات کی اور پھر نیاز صاحب کو بلا کر کچھ مفید مشورے دیئے۔
ڈاکٹر صابر نے بڑی سنجیدگی سے ارشد کی طرف دیکھا اور گویا ہوئے: “بیٹا ارشد تو کوئی بیمار نہیں ہے، جسے اسپتال میں داخل کرکے علاج کیا جائے۔
اگر ہم دوستانہ طور کرکٹ میچ کھیل رہے ہوں اور میں آؤٹ ہو جاؤں اور دوسری بیٹنگ کے لیے ضد کروں تو آپ کیا کرینگے؟
ڈاکٹر انکل یہ تو بری بات ہے کہ آپ غلط کام پر اصرار کریں۔
شاباش بیٹا تیری سوچ کتنی عمدہ ہے۔
بیٹا ایک اور سوال کا جواب دو۔
مان لو گاڑی میں کسی بچے کو الٹیاں آئیں اور تو کھڑکی والی سیٹ پر ہو تو تو کیا کرے گا؟
انکل اگر وہ بچہ میرا دوست ہو تو میں اس کے ساتھ اپنی سیٹ بدل دوں گا۔
شاباش بیٹا تیری بات صحیح ہے مگر جب کوئی بیمار ہو تو دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔
اب میرا آخری سوال ہے۔
ہم کھیل کیوں کھیلتے ہیں؟
تاکہ جیت جائیں۔ارشد نے بیساختہ جواب دیا۔
شاباش بیٹا مگر جیت صرف ایک کی ہی ہو سکتی ہے!
اصل میں ہم ہار جیت کےلئے نہیں کھیلتے ہیں بلکہ بامقصد زندگی گزارنے کے لئے اور نظم و ضبط سیکھنے کے لئے کھیل کھیلتے ہیں ۔
شاباش بیٹا آپ بہادر بچے ہیں مگر بہادری کے لیے اسکول کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو تختہ مشق بنانا اچھی بات نہیں ہے ۔
نیاڑ صاحب ارشد کے سامنے اس کے ماموں زاد یا دیگر بچوں کی مثالیں دے کر اسے نیچا نہ دکھائیں۔ اس سے اس کے اندر نفرت پیدا ہوتی ہے، جو وہ ننھیال نہ جانے کی ضد کی صورت میں نکالتا ہے۔ اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ اپنی جگہ خاص ہے، لیکن دوسرے بھی اتنے ہی معزز ہیں۔بچے کے سامنے دوسروں کی برائی نہ کریں۔ ماں اور باپ کو چاہیے کہ ارشد کے ساتھ روزانہ 15 منٹ ایسی گفتگو کریں جس میں کوئی نصیحت نہ ہو، بلکہ صرف اس کے دل کی باتیں سنی جائیں۔
ابو جی ڈاکٹر انکل کتنے اچھے انسان ہیں کاش سماج کا ہر آدمی اسی طرح اچھا ہو،ارشد نے راستہ چلتے چلتے اپنے والد سے کہا۔
واقعی بیٹا تیری بات صحیح ہے ۔
���
حالسیڈار ویری ناگ، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006146071