عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//زرعی یونیورسٹی کشمیر (SKUAST-K) نے زرعی تحقیق کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے انوسندن نیشنل ریسرچ فائونڈیشن (ANRF)سے 7.22کروڑ روپے مالیت کے آٹھ اعلیٰ سطحی تحقیقی منصوبے حاصل کر لیے ہیں۔یہ گرانٹ ملک بھر کی ممتاز یونیورسٹیوں اور قومی لیبارٹریوں کی جانب سے موصول ہونے والی 12,600سے زائد تجاویز میں سے سخت جانچ پڑتال کے بعد منظور کی گئی ہے، جو یونیورسٹی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے منصوبوں کے پرنسپل انویسٹی گیٹرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیقی اقدامات کشمیر کے زرعی نظام میں انقلابی تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ اور ماحولیاتی صحت میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔اہم منصوبوں میں ڈاکٹر عبدالرئوف ملک کی قیادت میں سیب کی فصل میں اسکیب بیماری کے خلاف مزاحم اقسام کی تیاری شامل ہے، جس سے کیمیائی ادویات کے استعمال میں کمی آئے گی۔ اسی طرح ڈاکٹر مدثر احمد میر زعفران کی فصل پر CRISPR-Cas ٹیکنالوجی کے ذریعے تحقیق کر رہے ہیں تاکہ طویل دورانیے کی بے فعالی کو کم کر کے سال میں دو بار کاشت ممکن بنائی جا سکے۔غذائی تحفظ کے شعبے میں ڈاکٹر بلال احمد پڈر لوبیا کی فصل میں بیماری کے خلاف جینیاتی مزاحمت پر کام کر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر برکت حسین ڈائمنڈ بیک موتھ کے خلاف فیرومون پر مبنی ماحول دوست کنٹرول طریقے تیار کر رہے ہیں۔ڈاکٹر خورشید احمد شیخ کے منصوبے کا مقصد بروقت کیڑوں کی نگرانی اور ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنا ہے تاکہ فصلوں کے نقصانات اور زرعی اخراجات کم کیے جا سکیں۔مویشیوں کے شعبے میں ڈاکٹر محسن ایوب میر ہمالیائی بھیڑوں کے لیے پہلا جامع جینومک ڈیٹابیس قائم کریں گے ۔