عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے مرکزی حکومت سے نیوزی لینڈ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کے تحت سیبوں کی درآمد کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونِ ممالک سے لائے جانے والے سیبوں پر معقول ٹیکس لگایا جائے تاکہ کشمیری سیب کی صنعت کو نقصان ہونے سے بچایا جاسکے۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی غیر ملکی سیبوں کی درآمد سے کشمیری سیب کی صنعت متاثر ہوئی اور حکومت کو چاہئے کہ نئے معاہدے میں بیرونی سیب پر کسی بھی قسم کی ٹیکس چھوٹ نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سیب نہ صرف ذائقے میں سب سے اچھا ہوتا ہے بلکہ صحت کیلئے مفید ہوتا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی بھی سیب نہیں کرسکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر کی بہت بڑی آبادی سیب کی صنعت سے جڑی ہوئی ہے اور امسال موسم کی خرابی، شاہراہ بند رہنے اور سیلابی صورتحال سے اس صنعت کو 2ہزار کروڑ روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ انہوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے اجتناب کیا جائے جس سے کشمیری سیب صنعت کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہوگا۔