! والدین کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ
شہباز رشید بہورو
پیرنٹنگ (Parenting) انگریزی زبان کی ایک اصطلاح ہے، جس کا سادہ سا مفہوم پرورش ہے۔ یعنی والدین کی طرف سے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کیا جانے والا عمل پیرنٹنگ کہلاتا ہے۔ آج کے دور میں پیرنٹنگ پر بات کرنے کی ضرورت کیوں بڑھ گئی ہے؟ اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں، تاہم میں صرف ایک وجہ بیان کر کے اس مسئلے کی نوعیت کو نہایت سہل انداز میں واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ دورِ جدید میں انسانی تہذیب و تمدن ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے عروج، کلائمیکس (Climax) تک پہنچ چکا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے ساتھ ساتھ نت نئے چیلنجز اور مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ان مسائل کا سامنا کرنے کے لیے انسان نے باقاعدہ مختلف فنون اور مہارتیں سیکھ لی ہیں تاکہ ہر مسئلے کو نہایت ماہرانہ انداز میں حل کیا جا سکے۔ جب تہذیب و تمدن نے یہ نئی صورت اختیار کی تو اس کے اثرات انسانی سماج پر پڑنا فطری تھا اور یہی تبدیلی آگے چل کر والدین کی ذمہ داریوں میں اضافے کا سبب بنی۔انسانی سماج سادگی کے دور سے نکل کر پیچیدگی کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی پرورش کے حوالے سے والدین کی ذمہ داریاں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بچے سادہ اور فطری ماحول میں رہ کر سماج سے بہت کچھ سیکھ لیا کرتے تھے، لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ سماج کی ہیئت تبدیل ہو گئی ہے اور اب وہ اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ بچے کی تربیت مؤثر انداز میں کر سکے۔ اسی تناظر میں والدین کی ذمہ داریاں مزید سنگین ہو گئی ہیں۔ماضی میں جب بچہ اسکول سے واپس آتا تو والدین کو زیادہ سے زیادہ یہی فکر ہوتی تھی کہ بچہ کتابوں کے ساتھ کب بیٹھے گا اور کھیل کود کی زیادتی سے محفوظ رہے گا، تاکہ اس کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ اگر بچہ بالفرض بند کمرے میں کتابوں کے ساتھ مصروف رہتا تو بھی یہی خدشہ رہتا کہ کہیں نیند یا خیالات میں گم ہو کر پڑھائی سے غافل نہ ہو جائے۔ اس صورت میں اگر بچہ تعلیمی لحاظ سے کمزور بھی رہ جاتا تو اس کا ذہنی توازن اور اخلاقی ساخت عموماً محفوظ رہتی تھی۔ اسی طرح اگر بچہ کھیل کود میں زیادہ مشغول رہتا تب بھی اس کی ذہنی صلاحیت اور اخلاقی اقدار برقرار رہتی تھیں۔لیکن آج کے دور میں صورتِ حال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔ڈیجیٹل دراندازی اس قدر گمبھیر ہو چکی ہے کہ اب شاید ہی کوئی فرد اس کے اثرات سے محفوظ ہو۔ ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، جو اب محض سہولت نہیں بلکہ ایک بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ بسا اوقات بچہ بظاہر بند کمرے میں کتابوں کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے، مگر والدین کو یہ تاثر دے رہا ہوتا ہے کہ وہ یوٹیوب یا کسی اور آن لائن تعلیمی ذریعے سے مطالعہ کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں والدین کے لیے بچے کی ذہنی اور اخلاقی حفاظت کی کوئی واضح ضمانت باقی نہیں رہتی۔
ممکن ہے کہ بچہ تنہائی کے باعث آہستہ آہستہ اپنا ذہنی توازن کھو رہا ہو اور اخلاقی اقدار سے بھی دور ہوتا جا رہا ہو، مگر والدین اس حقیقت سے بہ خبر رہیں۔ خاص طور پر آج کے وہ والدین جو سادگی کے ماحول میں پرورش پائے ہیں اورDigital دنیا سے پوری طرح واقف نہیں یا پھر اپنی مصروفیات کے سبب غفلت کا شکار ہو چکے ہیں، بچوں کی طرف مطلوبہ توجہ نہیں دے پا رہے۔ ایسی غفلت کے نتیجے میں بچے نہایت خطرناک ذہنی اور اخلاقی نتائج سے دوچار ہو سکتے ہیں۔یہی صورتِ حال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جدید دور میں محض والدین کا تجربہ یا نیک نیتی کافی نہیں رہی۔ اس پس منظر میں بچوں کی پرورش کے حوالے سے نت نئی تکنیکوںکو سیکھنا اور اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ اب پیرنٹنگ محض ایک فطری عمل نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ فن، بلکہ ایک مکمل سائنس کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس کے ذریعے والدین بچے کی دیکھ بھال اور تربیت کو اس کی فطری اور ذہنی صلاحیتوں کے مطابق بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں۔اسی لیے پرورش، یعنی پیرنٹنگ سے متعلق چند بنیادی اور اہم نکات کا بیان ناگزیر ہو جاتا ہے۔
Parentingیا پرورش کو اگر جنرلائزانداز میں بچوں کی زندگی کے تناظر میں بیان کرنا ہو تو پیرنٹنگ کو تین پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا: بچوں کی صحت کے تناظر میں پیرنٹنگ۔دوسرا: بچوں کے اخلاق کے تناظر میں پیرنٹنگ ۔تیسرا: بچوں کی تعلیم کے تناظر میں پیرنٹنگ ۔آج کل پیرنٹنگ کو صرف اور صرف ٹینیجر (Teenager) یا بعض اوقات نوجوانوں کی تعلیم کے گرد ہی مرتکز کر دیا گیا ہے، صحت اور اخلاق کو نظرانداز کرتے ہوئے، جس سے Parentingکا ایک محدود تصور سامنے آتا ہے۔ حالانکہ سب سے پہلے آج کے والدین کو بچے کی صحت کے حوالے سے تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ ان کی صحت کا خیال کس طرح رکھیں۔
بعض اوقات والدین انجانے میں بچے کو صحت مند رکھنے کی نیت سے ایسی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں جن کے منفی اثرات بچوں کو پوری زندگی جھیلنے پڑتے ہیں۔ ایک حاملہ خاتون اس کے شوہر اور گھر کے دیگر افراد کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس نئے مہمان کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ بلکہ جو بچہ ماں کے رحم میں موجود ہوتا ہے، اس کی صحت کا خیال رکھنے سے پہلے ماں کی صحت کا خیال رکھنا یقینی بنایا جانا چاہیے۔شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو نفسیاتی طور پر تندرست رکھنے کے لیے خوشگوار ماحول فراہم کرے، کیونکہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ نفسیاتی طور پر متاثرہ ماں کے اثرات بچے پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے کا ماحول، ترش کلامی، طعنہ زنی اور اس کے نتیجے میں ماں کا رنجیدہ ہونا،یہ سب عوامل بچے کی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ایک تحقیق میں جان گوٹمین نے ’’دی ہارٹ آف پیرنٹنگ‘‘میں لکھا ہے کہ بچے کی گفتگو میں اپنے والد یا والدہ کے جملوں کے اثرات، حتیٰ کہ آواز کے اتار چڑھاؤ کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بولتے وقت باڈی لینگویج میں بھی ایک سی مشابہت پائی جاتی ہے۔ چیزوں کو سیکھنے کا عمل رحمِ مادر میں موجود بچے کے سننے کے عمل سے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔