بیوپار منڈل کا متاثرہ دکانداروں کی بازآبادکاری کا مطالبہ
ظفر اقبال
اوڑی//بیوپار منڈل اوڑی نے اُن 31دکانداروں کی مناسب بازآباد کاری کا مطالبہ کیا ہے جن کے تجارتی یونٹ بارہمولہ اوڑی شاہراہ کی کشادگی کے دوران منہدم ہورہے ہیں۔بیوپار منڈل اوڑی کے صدر حاجی محمد شفیع نے کہا کہ شاہراہ کے توسیعی منصوبے سے مقامی تاجروں پر شدید اثر پڑ رہا ہے جن کا معاش انہی دکانوں پرمنحصر تھا۔ انہوں نے کہا کہ اوڑی میں 31متاثرہ دکانوں میں سے 22کو مکمل طور پر منہدم کیا جارہا ہے جبکہ 11کو جزوی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جن افرادکی دکانیں شاہراہ کی چوڑائی کیلئے منہدم کیا جارہا ہے، پہلے ان دکانداروں کی بازآبادکاری کی جانی چاہئے۔ محمد شفیع نے کہا’’یہ دکانیں بہت سارے خاندانوں کیلئے آمدنی کا واحد ذریعہ ہیں۔حکام کو ان دکانداروں کی مناسب بازآبادکاری کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ متاثرہ تاجروں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے‘‘۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ متاثرہ دکانداروں اور بیوپار منڈل سے اس سلسلے میںمشاورت کی جائے ۔ بیوپار منڈل صدرنے کہا کہ تاجر ترقی کے مخالف نہیں ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ یہ عمل منصفانہ ہو۔انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں فوری طور اقدامات کئے جائیں۔واضح رہے کہ اکتوبر کے مہینے میں تحصیل دفتراوڑی نے ایک عوامی نوٹس جاری کی تھی جس میں اوڑی قصبہ اور لگامہ میں اراضی و مختلف ڈھانچوں کے مالکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ مخصوص سروے نمبروں کے تحت شناخت شدہ اراضی کو خالی کریں۔متاثرین نے حال ہی میں اس سلسلے میں ممبر اسمبلی ڈاکٹر سجاد شفیع سے بھی ملاقات کی تھی اورایم ایل اے موصوف نے انہیں یقین دلایا تھاکہ متاثرہ دکانداروں کی بازآبادکاری کیلئے اقدامات کئے جائیںگے۔