ماہرین نفسیات کے مطابق برصغیر کی لگ بھگ دو ارب کی آبادی میں ستر فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں ،جس کی وجہ سےوہ ذہنی ، اخلاقی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔گویا برصغیر میں رہنے والے ہر تیسرے شخص کی ذہنی صحت صحیح و سلامت نہیں ہے۔ماہرین ِ نفسیات کے بقول تحقیقات میں اِن بیماریوں میں مبتلا ہونے کے مختلف وجوہات سامنے آئے ہیں ۔خصوصاً غریب ومحنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں معاشی تنگی ، ضروریاتِ زندگی کے حصول میں در پیش پریشانیاں ، کثرتِ اولاد اور اُن کی کفالت میں حائل روکاوٹیں ہیں ، جبکہ مڈل اور اَپر مڈل کلاس کے لوگوں میں معیارِ زندگی کا عدمِ حصول ہے۔ اگرچہ متوسط اور صاحب ِثروت لوگوں کے پاس بہترزندگی گذارنے کی سہولیات اور آسائشیں میسر ہوتی ہیں،لیکن اس کے باوجود یہ لوگ نہ صرف دیگر طبقات کے مقابلے زیادہ ذہنی انتشار کا شکاررہتے ہیں بلکہ ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کا شکارہوجاتے ہیں، کیونکہ ان کا ہوشِ زَر ،اُن کو ہر وقت بے چین اور اضطراب میںرکھتا ہے ۔
ماہرین نفسیات کے مطابق ذہنی مریضوں میں بڑی تعداد اُن والدین کی بھی ہے، جنہوں نے بڑےچاؤ اور محبت سے نہ صرف اپنی اولادوں کو پالاہوتا بلکہ اپنی بساط سے ہٹ کر اُن کو اعلیٰ تعلیم دلوائی ہوتی ہے ،جب وہ اولادیں کسی لائق بن جاتی ہیں اور اُن کی شادیاں ہوجاتی ہیں تو وہ مختصر وقفے کے بعد ہی اپنے والدین کو تنہاچھوڑ کر علیحدہ جا بستے ہیں۔اسی طرح وہ والدین بھی ذہنی امراض کے کے شکار ہیں ،جن کے بچے ملک کے باہر جا کر رہائش اختیار کر چکے ہیں ۔ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ پڑھی لکھی ہوتی ہے اور جب وہ اووَر ایج ہوجاتی ہیں اور اُن کی شادیاں کم تعلیم یافتہ اور غیر معیاری لڑکوں سے ہو جاتی ہے تو اُن کی ازدواجی زندگیاںغیر مطمئن رہ جاتی ہیں،رشتوں میں ناراضگی بڑھ جاتی ہے اور پھرنفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ نفسیاتی بیمار نرگسیت کا شکار ہوتا ہے، اُس کو اپنی ذات کے علاوہ ہر چیز کم تردکھائی دیتی ہے، وہ اپنے آپ کو عقل ِکُل سمجھتا ہے ۔ اِس بیماری میں دنیا کے بڑے بڑے لوگ بھی مبتلا ہوتے ہیں ۔ آرام دہ زندگی گذارنے والے بھی ذہنی مریض بن کر خود کشی کر دیتے ہیں۔ جاپان دنیا میں سب سے آگے ہے مگر سب سے زیادہ خودکشیاں جاپان میں ہوتی ہیں ۔ جبکہ برصغیر میں غربت ، گھریلو جھگڑے ، روز مرہ کی زندگی میں عدم استحکام ہی اس بیماری کے اسباب ہیں ۔زیادہ تر غربت کی وجہ سے ہی کئی شادی شدہ عورتیں اپنے معصوم بچوں سمیت دریا میں چھلانگ لگا کر خود کشیاں کر رہی ہیں ۔چنانچہ سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ بچے سے لے کر بوڑھے تک ایک جیسی اباہیت میں مبتلا ہے ۔
کیوں کہ اس کے ذریعے خود نمائی کے خبث ِباطن نے دماغ میں ایسا فتور پیدا کر دیا ہے کہ ہر شخص اس کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کا بھوکا ہو چکا ہے ۔ سوشل میڈیا نے ہر خاص و عام کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے اور وہ سب پردے چاک کر دیئے ہیں جس کی پردہ داری ہمارے سماج کا بنیادی اخلاقی ورثہ تھا ۔ سوشل میڈیا پر بچوں اور نوجوانوں کے لئے ایسے گیمز آئے، جس کو کھیلتے کھیلتے نوجوان نفسیاتی بیمار ہو کر خود کشیاں کرنے لگے ہیں ۔سوشل میڈیا پر نت نئے جرائم کرنے کے طریقے موجود ہیں اور نشہ کرنے کے فوائد بھی ۔بچوں کے لئے پسندیدہ کارٹون بھی نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں۔ الغرض بر صغیر ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں عوام کے لئے فلاحی کاموں کا فقدان ہے اور سہولیات ناپید ہیں، جس کی وجہ سے صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال درپیش ہے اور بیمار لوگوں کے لئے سرکاری ہسپتالوں کی کمی ہے اور اگر کہیںصحت مراکز موجود بھی ہیں تو اُن میںتعینات ڈاکٹروں اور طبی عملے کا رویہ غیرذمہ دارانہ اورانسان دشمنانہ ہوتا ہے، ساتھ ہی ان صحت مراکز میںایسے مریضوں کو مناسب ادویات دستیاب نہیں ہوتیں اوراکثر مریضوں کو بازار سےہی ادویات خریدنا پڑتے ہیں۔اسی طرح ہمارے یہاں کے عدلیہ ، مقننہ ، انتظامیہ اور شعبۂ صحت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی و صحت عملے کے انسان دشمن رویے کی وجہ سے بھی لوگوں میں نفسیاتی بیماری پھیلتی جا رہی ہے ۔