رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ کے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی شدید کمی کے باعث علاج کے لئے آنے والے مریضوں کو روزمرہ کی بنیاد پر مختلف قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ہسپتال نوشہرہ اور اس سے ملحقہ درجنوں دیہات کے عوام کے لئے صحت کی بنیادی سہولتوں کا واحد بڑا مرکز ہے، لیکن عملے کی کمی نے اس ادارے کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہسپتال میں اسٹاف نرس کے چھ اہم عہدے کافی عرصے سے خالی پڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے وارڈز میں مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح فارماسسٹ کا ایک عہدہ خالی ہونے کے سبب مریضوں کو ادویات کے حصول میں دشواری پیش آ رہی ہے اور کئی بار باہر سے مہنگی دوائیں خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ایکس رے ٹیکنیشن کے دو عہدے اور سینئر آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن کی ایک پوسٹ خالی ہونے سے تشخیصی خدمات اور آپریشن کے عمل میں تاخیر معمول بن چکی ہے۔ہسپتال میں صفائی کے نظام کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ صفائی کارکنوں کی آٹھ منظور شدہ پوسٹیں خالی پڑی ہیں جبکہ صرف تین صفائی ملازمین پورے ہسپتال کی صفائی کا کام انجام دے رہے ہیں۔ عملے کی اس کمی کے باعث وارڈز، راہداریوں اور دیگر حصوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں ہو پا رہا، جس سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انفیکشن کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔مقامی لوگوںکا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی کمی نے ہسپتال کے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ کئی مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ بعض اوقات معمولی علاج کے لئے بھی انہیں راجوری یا جموں کے بڑے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرحدی اور دور دراز علاقے ہونے کی وجہ سے نوشہرہ کے عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں ہسپتال کی خراب حالت نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مقامی لوگوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت سے پرزور اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نوشہرہ ہسپتال میں خالی پڑے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی تمام پوسٹیں جلد از جلد پْر کی جائیں تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔اس سلسلے میں جب بلاک میڈیکل آفیسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی خالی آسامیوں کے بارے میں اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی ان آسامیوں کو پْر کرنے کے لئے مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس سے ہسپتال کے نظام میں بہتری آئے گی اور مریضوں کو راحت ملے گی۔