آبی ذخائر کی حفاظت پر مامور محکمہ عملہ کی قلت کا شکار
بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر میں واقع محفوظ آبی ذخائر بڑے پیمانے پر تجاوزات کی زد میں ہیں، جہاں7625کنال( 385 ہیکٹر) سے زائد رقبہ غیر قانونی قبضے میں چلا گیا ہے۔ پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹ کشمیر کے دفتر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، کشمیر میں موجود 8 نوٹیفائیڈ آبی پناگاہیں( ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو )اس وقت تجاوزات کا شکار ہیں، جن کا مجموعی رقبہ 385.7 ہیکٹر بنتا ہے۔ سرکاری اعداد شمار کے مطابق ہوکرسر ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں3784کنال( 191.41 )ہیکٹر رقبہ تجاوزات کی نذر ہو چکا ہے۔ ہوکرسر نہ صرف ایک اہم آبی ذخیرہ ہے بلکہ یہ ’رامسر سائٹ‘ بھی ہے اور مہاجر پرندوں کی بڑی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح ہائیگام ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو میں1895کنال((95.85 ہیکٹر اور مرگنڈ ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو میں1774کنال( 89.74 ہیکٹر) رقبہ تجاوزات کی زد میں ہے۔ ایک اور اہم آبی ذخیرہ شالہ بگ ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو میں75کنال( 3.81 ہیکٹر) پر غیر قانونی قبضے درج کیے گئے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چتلم ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو میں84کنال( 4.24 ہیکٹر) اور فریش کھوری ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو میں13کنال( 0.65 ہیکٹر) رقبہ متاثر ہوا ہے، جبکہ کرانچو اور منی بگ ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق کسی بھی قسم کی تجاوزات درج نہیں کی گئیں۔اعداد و شمار کے مطابق ہوکرسر ویٹ لینڈ13.54 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے، جبکہ شالہ بگ ویٹ لینڈ کا کل رقبہ 16.75 مربع کلومیٹر بتایا گیا ہے۔ اسی طرح ہائگام ویٹ لینڈ، جو رامسر سائٹ بھی ہے، 7.62 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جبکہ مرگنڈ ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو کا رقبہ 3.83 مربع کلومیٹر درج کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق نار کرہ ویٹ لینڈ وائلڈ لائف پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی کنٹرول میں نہیں آتا اور نہ ہی یہ کسی محفوظ ایریا نیٹ ورک کا حصہ ہے۔محکمہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبی ذخائر کی حفاظت پر مامور محکمہ عملہ کی قلت کا شکار ہے۔ محکمے میں 92 اسامیوں کے مقابلے میں صرف 54ملازمین تعینات ہیں، جبکہ ا38سامیاں خالی ہیں۔ خاص طور پر فیلڈ اسٹاف جیسے وائلڈ لائف گارڈوں، واچروں اور ہیلپروںکی کمی کو تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر میر مبشر شجاع کا کہنا ہے کہ تجاوزات، عملے کی کمی اور مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث کشمیر کے آبی ذخائر شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ ویٹ لینڈز نہ صرف سیلاب پر قابو پانے، زیر زمین پانی کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے وقت مقررہ کارروائی عمل میں لائی جائے، فیلڈ اسٹاف کی فوری بھرتی کی جائے اور ویٹ لینڈ تحفظ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ کشمیر کے قیمتی آبی ذخائر کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔