عظمیٰ نیوز سروس
جموں// بائسرن پہلگام ملی ٹینٹ حملہ کیس میں ایک اہم پیش رفت میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)نے ایک جامع چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں اس مہلک حملے کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام دینے میں پاکستان کے براہ راست کردار کی تفصیل دی گئی ہے۔این آئی اے نے کالعدم پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ(ایل ای ٹی)اور اس کی پراکسی دی ریزسٹنس فرنٹ(ٹی آر ایف)کو 7ملزمان کے ساتھ نامزد کیا ہے اورانہیں اس وحشیانہ حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جس میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی شہری کی جان لی گئی تھی۔این آئی اے کے ایک بیان میں، چارج شیٹ، جس میں پاکستان کی سازش، ملزمین کے کردار، اور کیس میں معاون ثبوتوں کی تفصیل ہے، نے پہلگام حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور اس کو انجام دینے میں اس کے کردار کے لیے ممنوعہ ایل ای ٹی/ٹی آر ایف کو چارج کیا ہے۔ اس حملے میں پاک سپانسر شدہ ملی ٹینٹوں کی طرف سے مذہب کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کی گئی تھی جس میں 25 سیاح اور ایک مقامی شہری ہلاک ہو گئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ، پاکستانی ہینڈلرساجد جٹ کو بھی 1597 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں ایک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جسے این آئی اے کی خصوصی عدالت، جموں میں داخل کیا گیا ہے۔ این آئی اے کی چارج شیٹ میں ان تین پاکستانی ملی ٹینٹوں کے مزید نام درج ہیں جو مہلک حملے کے ہفتوں بعد آپریشن مہادیو میں جولائی 2025 میں سرینگر کے داچھی گام میں کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ تینوں کی شناخت فیصل جٹ عرف سلیمان شاہ، حبیب طاہر، جبران اور حمزہ افغانی کے نام سے ہوئی ہے۔ایل ای ٹی / ٹی آر ایف کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا چار ملی ٹینٹوں پر بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) 2023، اسلحہ ایکٹ، 1959، اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کے متعلقہ دفعات کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ این آئی اے نے گزشتہ تقریباً 8 مہینوں پر محیط ایک پیچیدہ سائنسی تحقیقات کے ذریعے، RC-02/2025/NIA/JMU کیس میں پاکستان کی سازش کا سراغ لگایا تھا، جو ہندوستان کے خلاف بلا روک ٹوک ملی ٹینسی کی سرپرستی کر رہا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ دو ملزمین پرویز احمد اور بشیر احمد جوتھڑ کو این آئی اے نے 22 جون 2025 کو ملی ٹینٹوں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، ان پر بھی چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔تفتیش کے دوران، دونوں افراد نے حملے میں ملوث تین مسلح ملی ٹینٹوں کی شناخت ظاہر کی تھی، اور یہ بھی تصدیق کی تھی کہ وہ کالعدم لشکر طیبہ تنظیم سے وابستہ پاکستانی شہری تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔