اعجاز میر
سرینگر// پونچھ سے وادی تک رسائی کیلئے صرف مغل روڑ ہی نہیں بلکہ پونچھ سے گلمرگ اور لورن پونچھ سے توسہ میدان ٹنگمرگ تک بھی دو راستے جاتے ہیں جن پر کام جاری بھی ہے اور کچھ کام رکا ہوا بھی ہے۔لیکن پونچھ اور وادی تک پہنچنے کیلئے چوتھا راستہ بھی ہے جو اوڑی پونچھ روڑ کہلاتا ہے۔
تاریخی پس منظر
اوڑی سے پونچھ جانے والی سڑک فی الوقت مکمل طور پر ناکارہ ہے کیونکہ حاجی پیر درہ دونوں اطراف سے ناقابل رسائی ہے۔46 کلومیٹر طویل سڑک اوڑی کو پونچھ سے جوڑتی ہے، پر 1940کی دہائی کے اوائل میں روڑی بچھائی گئی ۔مہاراجہ ہری سنگھ کے وقت اس سڑک پر پونچھ سے اوڑی تک قافلے روز آتے تھے اور دونوں طرف آمد و رفت ہوا کرتی تھی۔ 9000فٹ کی بلندی پر واقع درہ حاجی پیرکے ذریعے 1947 تک یہ شاہراہ قابل آمد و رفت تھی لیکن پاکستان1947 میںاس پر قابض ہوا اوراس پر پونچھ سے اوڑی تک آمد و رفت بند ہوگئی۔ 1965 کی جنگ میں ہندوستان نے دفاعی نوعیت کے درہ حاجی پیر کو پاکستان سے چھیننے میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد کچھ مہینوں تک اس سڑک پر بھارت کا قبضہ رہا اور ایک بار پھر اس سڑک پر؎آمد و رفت بحال ہوگئی۔ اسی دوران سڑک کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھی استعمال کیا۔دونوں ملکوں کے درمیان فائر بندی کرانے میں روس اور امریکہ نے کلیدی رول ادا کیا ۔جنوی 1966میں دونوں ملکوں کے اس وقت کے سربراہان مملکت بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری ور پاکستانی صدر جنرل ایوب خان کے درمیان تاشقند میں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت دونوں ملکوں کی فوجوں کو 1947کی پوزیشنوں پر واپس جانا پڑا اور معاہدے کی وجہ سے یہ علاقہ بھارت کو واپس چھوڑنا پڑا۔ دونوں ممالک کی افواج اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس چلی گئیں اوردرہ حاجی پیر پھر پاکستان کے کنٹرول میں چلا گیا ۔ نتیجے کے طور پر سڑک دوبارہ بند ہوگئی۔اوڑی سے بلہ کوٹ تک یہ سڑک جاتی ہے جس پر فی الوقت گاڑیوں کی آمد و رفت جاری ہے یہاں سے قریب 17کلو میٹر کا حصہ پاکستان کے قبضے میں ہے اور اسی وجہ سے سڑک بند پڑی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سڑک پر پونچھ بس سٹینڈ سے مالٹی گائوں تک پختہ سڑک بنی ہوئی ہے اور اوڑی سے بلہ کوٹ تک بھی میکڈم بچھی ہوئی ہے۔
نئی منصوبہ بندی
اوڑی کے دفاعی لحاظ سے اہم علاقوں کے درمیان رابطے کے لیے پیر پنچال خطے میں ایک سرنگ کی تعمیر کے آپشن کی تلاش کی جا رہی ہے۔سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی مرکزی وزارت نے پیر پنچال کے علاقے میں 5.5کلومیٹر لمبی سرنگ کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ کی تیاری کا آغاز کر دیا تھا۔روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت نے تکنیکی کنسلٹنٹس سے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ، قبل از تعمیراتی سرگرمیاں اور 5.5 کلومیٹر لمبائی کی ہائی وے ٹنل کی تعمیر کے لیے نگرانی کے لیے ایک تجویزدی ہے، جس میں پونچھ- اوڑی روڈ پر پیر پنجال رینج کے درمیان رسائی کو ممکن بنانا شامل ہے۔22 ستمبر 2018 کو پی ایم ڈی پی کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھاکہ یہ منصوبہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے ذریعے شروع کیا جائے گا کیونکہ یہ لائن آف کنٹرول پر واقع ہے۔ جنوری 2021 میں، یوٹی انتظامیہ نے مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری سے الائنمنٹ کو حتمی شکل دینے اور DPR کی تیاری میں تیزی لانے کی درخواست کی۔الائنمنٹ کو حتمی شکل دینے اور فزیبلٹی سروے کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل 20 اپریل 2021 کو شروع کیا گیا تھا۔ 25 جون 2021 کو بھارت مالا پریوجنا کے تحت اس کو شروع کرنیکا کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بعد میں، کنسلٹنٹ نے پروجیکٹ کے لیے الائنمنٹ بھی جمع کرائے تھے۔
موجودہ سٹیٹس
دستاویز میں بھارت مالاپریوجنا پروجیکٹ کے تحت جموں و کشمیر میں مجوزہ 120کلومیٹر پونچھ- اوڑی کیلئے چار طریقے کے راستے اختیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ کنسلٹنٹ کی طرف سے سائٹ کے دورے کا خلاصہ کرتا ہے جہاں لائن آف کنٹرول کے قریب چیلنجنگ خطہ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ تجاویز میں سڑک کے حالات کو دستاویز ی شکل دیکر اسکا مکمل خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ان چار سڑکوں کی لمبائی 139.774 کلومیٹر سے لے کر 140.965کلومیٹر تک ہے۔ ڈی پی آر میں اس سڑک کو سب سے چیلنجنگ قرار دیا گیا ہے جو لائن آف کنٹرول پر واقع ہونے کے نتیجے میں بہت ہی حساس اور کسی بھی نا مساعد صورتحال میں اثر انداز ہوسکتی ہے۔اس سڑک کیساتھ ساتھ دونوں طرف کی افواج کا جمائو ہے اور اگلے کے مورچے ہیں نیز فوجی کانوائیوں کی زیادہ سے زیادہ آمد و رفت ہوتی ہے لہٰذا مستبل قریب میں اس سڑک کے تعمیر ہونے کے بعد بھی اس پر شہری ٹریفک کی آزادانہ نقل و حرکت بہت مشکل دکھائی دیتی ہے۔