یواین آئی
نئی دہلی//کھانے پینے کی اشیا اور ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں سال بہ سال کمی کی وجہ سے نومبر میں تھوک قیمت پر مبنی افراط زر کی شرح 0.32 فیصد نیچے درج کی گئی۔یہ لگاتار دوسرا مہینہ ہے جب ملک میں نئی نسل کی اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) اصلاحات کے نفاذ کے بعد تھوک مہنگائی صفر سے نیچے ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں تھوک مہنگائی 1.21فیصد کم تھی۔پیر کو وزارت تجارت اور صنعت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غذائی اشیا کی تھوک مہنگائی نومبر میں 2.60 فیصد نیچے رہی جبکہ اکتوبر میں یہ 5.04فیصد نیچے تھی۔نومبر 2024کے مقابلے میں نومبر 2025 میں پیاز کی تھوک قیمتوں میں 64.70فیصد، آلو کی قیمتوں میں 36 فیصد، سبزیوں کی قیمتوں میں 20.23فیصد اور دالوں کی قیمتوں میں 15.21 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ گندم، چاول اور پھلوں کی قیمتوں میں بھی سال بہ سال کمی واقع ہوئی۔کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ایندھن کی تھوک قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ خام تیل کی قیمتوں میں 13.92 فیصد کمی ہوئی۔ پٹرول 1.75 فیصد اور ڈیزل 1.64 فیصد سستا ہوا۔ کھانا پکانے والی گیس کی قیمتوں میں 12.78 فیصد کمی ہوئی۔دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں کمی ہوئی یا کم شرح پر اضافہ ہوا۔