میٹرو سے لیکر سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //دہلی این سی آر میں آلودگی نے لوگوں کا بُراحال کررکھا ہے۔ گویا دھیمی ہواؤں اور خراب موسم نے دہلی کو گیس چیمبر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسموگ کی موٹی تہہ نے اب بھی راجدھانی کوگھیر رکھا ہے۔ سردار پٹیل مارگ میں اے کیو آئی 483 درج کیا گیا ہے جو کہ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق ’شدید‘ زمرے میں آتا ہے۔ پنڈت پنت مارگ میں اے کیو آئی 417 کا ریکارڈ کیا گیا جبکہ بارا کھمبا روڈ پر 474 اور اکشردھام علاقے میں 493 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ باراپلا فلائی اوور میں 433 ہے جو سی پی سی بی کے مطابق ’شدید‘ زمرے میں آتا ہے۔پیر کی صبح 7 بجے پورا شہر گھنے کہرے کی چادر میں لپٹا نظر آیا۔ میٹرو اسٹیشن سے لے کر سڑکوں پر کہرے کے باعث حد بصارت بے حد کم رہی۔ گاڑیاں بھی مقررہ حد سے کافی کم رفتار سے چلتی نظر آئیں۔ یہ نظارہ گریٹر نوئیڈا کے نالج پارک میں دیکھنے کو ملا جہاں جہاں دہلی، نوئیڈا، فرید آباد اور یمنا ایکسپریس وے کی طرف جانے والی گاڑیاں رینگتی نظر آئیں۔اس سے پہلے اتوار کو مسلسل دوسرے دن ہوا کا معیار سنگین زمرے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ سیزن کا سب سے آلودہ دن درج کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دہلی ملک میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ آلودہ رہا۔ صبح کی شروعات کہرے اور دھند سے ہوئی۔ دن بھر اسموگ کی گھنی چادر بھی حاوی رہی جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں حد بصارت انتہائی کم رہی۔ صبح سویرے کہرے کی موٹی چادر نے راجدھانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ رات کے وقت بھی حد بصارت کم ہونے لگی۔ مزید برآں آلودگی کی وجہ سے اب لوگوں کو سانس لینے میں بھی دشواری ہونے لگی ہے۔سی پی سی بی کے مطابق اتوار کو مغرب سے 5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں۔ وہیں تخمینہ زیادہ سے زیادہ اختلاط کی گہرائی 800 میٹر رہی۔ دریں اثنا دوپہر 3 بجے ہوا میںپی ایم 10 کی مقدار 448.2 اور پی ایم 2.5 کی مقدار 294.2 مائیکروگرام فی گھنٹہ رہی۔ دریں اثنا سی پی سی بی نے پیش گوئی کی ہے کہ پیر اور منگل کے درمیان ہوا کے بے حد خراب زمرے میں پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس کی وجہ سے سانس کے مریضوں کو کافی پریشانی ہوسکتی ہے۔ لوگوں کوآنکھوں میں جلن، کھانسی، خارش اور سر درد کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
نوئیڈا میں 5ویں تک کے سکول بند
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//فضائی آلودگی کی وجہ سے اترپردیش کے نوئیڈا میں نرسری سے پانچویں جماعت تک کے تمام اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ گریڈ 6 سے 12 تک کے تمام اسکول ہائبرڈ موڈ میں کام کریں گے۔ یہ حکم تمام اسکولوں پر فوری طور پر نافذ کیا گیا ہے، اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ فیصلہ اس لئے لیا گیا ہے کیونکہ نوئیڈا کی ہوا زہریلی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ گریٹر نوئیڈا میں ائیر کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو آئی 500 سے تجاوز کر گیا ہے۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی آلودگی کی روشنی میں لیا ہے۔ یہ حکم فوری طور پر بچوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔ضلع انسپکٹر آف اسکولس، گوتم بدھ نگر کے دفتر سے جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ گریپ کے رہنما خطوط کو مدنظر رکھتے ہوئے، ضلع مجسٹریٹ نے حکم دیا ہے کہ ضلع میں کام کرنے والے بیسک تعلیمی کونسل، سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای، سنسکرت ایجوکیشن کونسل، اور مدراس بورڈ سے منسلک اسکولوں اور کوچنگ سینٹروں میں کلاسیں شرطوں کے ساتھ 14دسمبر یعنی اتوار سے اگلے نوٹس تک چلائی جائیں گی تاکہ طلباء کی صحت پر منفی اثرات مرتب کم سے کم ہوں ۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چھٹی سے نویں اور گیارہویں کی کلاسیں ہائبرڈ موڈ میں چلیں گی ۔ احتیاط کے ساتھ آن لائن اور فزیکل دونوں طریقوں سے کلاسز منعقد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ضلع کے تمام اسکولوں کے پرنسپلوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حکم کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنائیں۔
۔ 80 پروازیں منسوخ |
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پیر کے روز گھنے کہرے کے سبب 80 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ کم از کم پانچ پروازوں کا رخ قریبی شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔ ہوائی اڈے کی ویب سائٹ کے مطابق آج 80 سے زائد گھریلو اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ رہیں۔ حکام کے مطابق کم از کم پانچ پروازوں کو دوسرے شہروں میں لینڈ کرایا گیا ہے۔دہلی ہوائی اڈے کی جانب سے سوشل میڈیا پر دوپہر 1:03 بجے کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اب حالات میں بہتری آرہی ہے، تاہم پہلے سے بڑی تعداد میں پرواز کے منتظر طیاروں کی وجہ سے صورتحال معمول پر آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ٹاٹا گروپ کی ایئر انڈیا نے بھی اپنی ویب سائٹ پر صبح 10:48 بجے تک پروازوں کی منسوخی کی اطلاع دی ہے۔ دہلی کے علاوہ شمالی ہندوستان کے دیگر شہروں سے بھی پروازوں کی منسوخی کی اطلاع ملی ہے۔
سپریم کورٹ کارروائی متاثر | ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعتوں کی ہدایت
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //قومی راجدھانی میں سردی اور سنگین ہوتے ہوا کے معیار کی روشنی میں ہندوستان کے چیف جسٹس(سی جے آئی) سوریہ کانت نے وکلاء اور فریقین سے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں درج مقدمات کی سماعت کے لیے ہائبرڈ موڈ کا استعمال کریں۔ انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ورچوئل طورسے پیش ہونے کی سہولت فراہم کرائی ہے۔سپریم کورٹ کی انتظامیہ کی طرف سے جاری ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ موجودہ موسم اور فضائی آلودگی کی صورتحال کے پیش نظر چیف جسٹس نے مشورہ دیا ہے کہ اگر سہولت ہو تو بار کے ممبران اور فریقین ذاتی طور پر اپنے معاملوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہائبرڈ موڈ کا فائدہ اٹھائیں۔ وکلاء اور فریقین کو سپریم کورٹ کی اس ہدایت کا مقصد ہوا کے خراب معیار سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کو کم کرنا ہے۔دہلی میں موجودہ اے کیو آئی ’سنگین‘ زمرے میں ہونے کی وجہ سے ماہرین صحت نے طویل وقت تک ایسی ہوا کے رابطے میں رہنے سے صحت کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ اس سے قبل 26 نومبر کو چیف جسٹس سوریہ کانت نے دہلی کی آلودہ ہوا میں ایک گھنٹے کی صبح کی واک کے دوران تکلیف محسوس کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے عدالتی کارروائی کو مکمل طور پر ورچوئل موڈ میں منتقل کرنے پر غور کیا۔انہوں نے یہ تبصرے الیکشن کمیشن کے ذریعہ کئی ریاستوں میں ووٹر لسٹوں پر خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق فیصلوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے دوران کئے تھے۔ سپریم کورٹ فی الحال ہائبرڈ موڈ میں کام کر رہی ہے، جس میں جسمانی اور ورچوئل دونوں سماعتیں ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل 13 نومبر کو جسٹس پی ایس نرسمہا نے دہلی-این سی آر میں ہوا کے خطرناک معیار کو دیکھتے ہوئے وکلاء کو ورچول طور سے حاضر ہونے کا مشورہ دیا تھا۔