عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ اداروں میں سیاسی مداخلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس سے سنجیدگی کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔ایس کے آئی سی سی سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئےوزیر اعلیٰ نے کارپوریشنوں اور محکموں کے کام کاج میں سیاسی مداخلت سے متعلق خبروں کو ’’بدقسمت اور تشویشناک‘قرار دیا۔انہوں نے کہا،سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ایسے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ پہلے یہ ادارے منتخب حکومت کے سامنے جوابدہ ہوتے تھے، لیکن اب اس نظام کے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور دیگر محکموں سمیت تمام اداروں کو آزادانہ طور پر اور کسی بھی’’بیرونی دباؤ یا سیاسی محرک‘‘کے بغیر کام کرنا چاہیے۔
سیاحتی شعبے پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے باعث اگرچہ کچھ بکنگز منسوخ ہوئی ہیں، تاہم کرسمس اور نئے سال سے قبل اس شعبے کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہاایڈونچر ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا جلد ہی سرینگر میں اپنا سالانہ کنونشن منعقد کرے گی، جو ایک مثبت قدم ہے۔ ہمیں سیاحت کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر توجہ دینی ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ سیاحت سے متعلق بیانیہ اہم ہے، تاہم حکومت کو عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور گورننس و انتظامیہ کو مضبوط بنانے کو بھی یکساں ترجیح دینی چاہیے۔
اداروں میں سیاسی مداخلت ناقابلِ قبول: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ