عظمیٰ نیوز سروس
پھلواری شریف،پٹنہ//دارالعلوم دیوبند وقف میں امام العصر حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ پر ایک تفصیلی دوروزہ سیمینار منعقد ہوئی، جس میں علامہ کشمیریؒکی علمی وسعت، فکری بصیرت اور تعلیمی خدمات پر مبنی ملک وبیرون ملک کے صاحب قلم نے مقالہ پیش کیا۔ سیمینارکی دوسری نشست میں ممتاز عالمِ دین مرتب فتاویٰ علماء ہندامیر شریعت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کارگزار صدرآل انڈیا ملی کونسل نے علامہ انورشاہ کشمیری ؒ کے تعلیمی نظریہ پراپناوقیع اوربیش قیمت مقالہ پیش کیا۔مقالہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ علامہ کشمیریؒ نے دارالعلوم دیوبند کے اس تعلیمی نظام کی نمائندگی کی جو اعتدال، جامعیت اور وسعتِ فکر کا حسین امتزاج ہے۔مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ علامہ کشمیریؒنہ صرف علومِ قرآن و حدیث میں یکتائے روزگار تھے؛ بلکہ انہیں عصری علوم، قدیم فلسفہ، جدید سائنس اور متعدد زبانوں پر بھی گہری نظر حاصل تھی۔ وہ اردو، فارسی، عربی، انگریزی اور عبرانی زبانوں سے واقف تھے اور زبانوں کو دین کی دعوت اور خدمت کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔مولاناقاسمی نے عظیم الشان علمی سیمینارکوعلامہ کشمیریؒ کوبہترین خراج عقیدت قراردیتے ہوئے سیمینار کے روح رواں دارالعلوم وقف دیوبندکے مہتمم مولاناسفیان قاسمی،دارالعلوم وقف کے نائب مہتمم مولاناڈاکٹرشکیب قاسمی اوروقف دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ اورکارکنان کومبارک باد پیش کی اورامید ظاہر کی کہ یہ سیمینار اپنے مقصدمیں کامیاب ہوگااورعلامہ کشمیری نے جو تعلیمی تحریک برپاکی تھی اس کی روشنی ہر گھر تک پہنچے گی۔