پرویز احمد
سرینگر //وادی میں دستیاب انڈوں میںسرطان پیدا کرنے والے کیمیائی ذرات کی موجودگی کے بعد محکمہ فوڈ سیفٹی افسران نے انڈوں کے 25نمونوں کو تشخیص کیلئے نیشنل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری غازی آباد بھیج دیا ہے اور ان کی لیبارٹری رپورٹ آئندہ 2ہفتوں میںموصول ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ مختلف خوراک کی ٹیسٹنگ رپورٹ شائع کرنے والے چینل Truslified نے اپنی ایک رپورٹ میں بھارت میں Eggoz نامی کمپنی کے پیکیجڈ انڈوں میں Nitrofuran اور Nitroimidazole نامی کیمیات کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جس کے بعد وادی میں تشویش کی لہر دورڑ گئی ہے۔ اس دوران محکمہ خوراک و عوامی تقسیم کاری نے معاملے کی تحقیقات کیلئے وادی میں فوڈ سیفٹی افسران سے 2دنوں کے اندر اندر رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جمعرات اور جمعہ کو محکمہ کے افسران نے وادی کے مختلف اضلاع میں دستیاب انڈوں کے نمونوں حاصل کئے ہیں۔ گاندربل ضلع میں انڈوں کے 2نمونے تشخیص کیلئے اٹھائے گئے تاہم ضلع میں eggozنامی کمپنی کے انڈے دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح ضلع بارہمولہ میں فوڈ سیفٹی افسران نے انڈوں کے 3نمونے جمع کئے ۔ کپوارہ میں بھی eggozنامی کمپنی کے انڈے مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔ اسسٹنٹ کنٹرولر فوڈ سیفٹی سینٹرل ہلال احمد میر نے بتایا کہ محکمہ فوڈ سیفٹی کے افسران نے ہر ضلع سے انڈوں کے نمونے اٹھائے ہیں جنہیں ٹیسٹنگ کیلئے نیشنل فوڈ لیبارٹری بھیجا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ آنے میں کم از کم 2ہفتے درکار ہونگے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹنگ رپورٹ آنے کے بعد ہی حقائق کا پتہ چلے گا۔ محکمہ کے نوڈل آفیسر مسٹر فردوس احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فیلڈ میں 32آفیسر کام کررہے ہیں اور پورے جموں و کشمیر میں انڈوں کے جو نمونے حاصل کئے گئے ہیں ان کا مکمل خاکہ پیر کے روز مشتہر کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ نمونے پورے جموں و کشمیر سے لئے جارہے ہیں اور اس میں پرائیویٹ ڈیلروں کو بھی شامل کیا گیا ہے حالانکہ جن انڈوں کے بارے میں خدشات پائے گئے ہیں وہ ای کامرس کے ذریعے آن لائن حاصل کئے گئے ہیں۔