بلال فرقانی
سرینگر// توانائی کے عالمی تحفظ کے دن پر موسم سرما میں کشمیر بجلی بحران سے گزر رہاہے۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں بجلی کی مانگ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، وہیں مقامی پیداوار میں نمایاں کمی نے صارفین کو طویل اور غیر اعلانیہ کٹوتیوں کا سامنا کروا دیا ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال پھر سے ابھار دیا ہے کہ آیا شمسی توانائی کشمیر میں قابلِ اعتماد متبادل ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں۔محکمہ بجلی کے مطابق وادی میں دسمبرکے اوائل تک بجلی کی طلب مصروف ترین اوقات میں تقریباً 2000 میگاواٹ تک پہنچتی ہے، جبکہ مقامی پیداوار ضرورت کا صرف 25 فیصد ہی پوری کر پا رہی ہے۔ دوسری جانب سخت سردیوں میں دریائوں میں پانی کی کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار 84 سے 90 فیصد تک گھٹ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کو اپنی بجلی کا 85 سے 90 فیصد حصہ بیرونِ ریاست، بالخصوص کوئلے اور شمسی بجلی سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔اسی پس منظر میںشمسی توانائی کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیر اعظم سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت اب تک جموں و کشمیر میں 6,121 چھتوں پر سولر سسٹم لگائے جاچکے ہیں جن کی مجموعی پیداوار صرف 22.51 میگاواٹ ہے، جبکہ 13,600 سے زائد گھروں میں سولر سسٹم لگائے جانے کے باوجود صرف 5,400 گھرانوں کو ’ صفربجلی بل‘جیسا فائدہ مل سکا ہے۔ حکومت نے آئندہ برسوں میں 83,500 گھروں تک سولر سہولت پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار قدرے بہتر موسم میں کارآمد ثابت ہوتی ہے لیکن دسمبر سے فروری تک شدید سردیوں میں بارش، دھند اور برف باری کے باعث سولر پینلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہو جاتی ہے۔ ایک مقامی شہری نصر اللہ نے بتایا’’پینل پر برف رہنے سے بجلی بالکل نہیں بنتی‘‘۔قابل تجدید توانائی کے ماہر انجینئر پرنس طارق ملک کا کہنا ہے’’سردیوں میں شمسی تونائی کے مؤثر استعمال کے لیے بیٹری بیک اَپ ناگزیر ہے، مگربڑی بیٹریوں اور ہائبرڈ سسٹم کی قیمت عام صارف کی دسترس سے باہر ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ، کشمیر میں زیادہ تر گھروں میںگرڈ ٹائیڈ سولر سسٹم نصب ہیں، جو بجلی بند ہوتے ہی خودبخود بند ہو جاتے ہیں، جس سے صارفین کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ پینل ہونے کے باوجود بجلی کیوں نہیں آ رہی۔ماہرین کے مطابق وادی میں شمسی تونائی کا مستقبل اْس وقت روشن ہو سکتا ہے جب حکومت بیٹری بیک اَپ پر سبسڈی، ہائبرڈ سسٹموں کی ترغیب، اور سرد علاقوں کے لیے موزوں’ زوایہ تبدیل کرنے والے سولر پینل‘(ٹِلٹ ایڈجسٹ ایبل پینلوں)کو فروغ دے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیونٹی سسٹم، آگاہی پروگراموں اور تکنیکی معاونت میں بہتری لانا بھی ضروری ہے۔توانائی کے عالمی تحفظ کے دن کے موقع پر ماحولیات اور توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے توانائی بحران سے نمٹنے میں شمسی توانائی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن صرف اْس صورت میں جب خطے کی زمینی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار اور موسمِ سرما سے ہم آہنگ حل اختیار کیے جائیں۔