عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے کئی اضلاع میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) غیر صحت بخش سے شدید درجوں تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث عوام طویل عرصے تک زہریلی ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔
AQI.in کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بارہمولہ میں AQI 178، ہندواڑہ 173، بانڈی پورہ 172 اور کولگام 158 ریکارڈ کیا گیا، جو سب ’’غیر صحت بخش‘‘ زمرے میں آتے ہیں۔
بانہال میں AQI 132 رہا، جسے ’’خراب‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب جموں شہر میں فضائی آلودگی نے ’’شدید‘‘ سطح عبور کر لی ہے، جہاں AQI 223 ریکارڈ کیا گیا، جو نہایت خطرناک فضائی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
فضائی آلودگی کی سنگینی اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب اس کا موازنہ سگریٹ نوشی سے کیا جائے۔
سری نگر میں صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ AQI.in کے مطابق شہر میں PM2.5 کی اوسط مقدار تقریباً 80 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جبکہ اوسط AQI 168 کے آس پاس درج کیا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں AQI 180 تک پہنچا اور PM2.5 کی سطح 96 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک جا پہنچی، تاہم سگریٹ کے مساوی حساب اوسط نمائش کی بنیاد پر کیا گیا ہے، نہ کہ وقتی اضافے پر۔
برکلے ارتھ کے ایک اندازے کے مطابق، اگر 24 گھنٹوں میں PM2.5 کی مقدار 22 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہو تو یہ ایک سگریٹ پینے کے برابر ہوتی ہے۔ اس حساب سے سری نگر کی ہوا میں ایک دن سانس لینا تقریباً 3.6 سگریٹ پینے کے مساوی ہے۔ یوں ایک مہینے میں یہ تعداد تقریباً 109 سگریٹ بنتی ہے، حتیٰ کہ ان افراد کے لیے بھی جو کبھی سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام غیر ارادی طور پر ’’غیر فعال سگریٹ نوشی‘‘ کا شکار ہو رہے ہیں۔ آلودگی کے شدید دورانیے صحت پر دیرپا اثرات چھوڑ سکتے ہیں، اور صاف دن بھی ان نقصانات کی مکمل تلافی نہیں کر پاتے۔
اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں سانس لینا سگریٹ جلانے کے برابر خطرناک ہوتا جا رہا ہے، اور اس سے بچاؤ تقریباً ناممکن ہے۔
ماہر موسمیات فیضان عارف نے کہا کہ سردیوں میں کشمیر میں فضائی آلودگی موسمی اور جغرافیائی عوامل کے باعث شدت اختیار کر لیتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’درجہ حرارت میں کمی کے باعث درجہ حرارت کی الٹ پھیر (ٹمپریچر انورژن) عام ہو جاتی ہے، جبکہ ہواؤں کی رفتار کم ہونے اور فضائی گردش کی کمزوری سے آلودہ ذرات منتشر نہیں ہو پاتے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ وادی کی پیالہ نما جغرافیائی ساخت بھی آلودہ ہوا کو سطح زمین کے قریب پھنسائے رکھتی ہے۔ ’’بارش یا برفباری کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ یہی عوامل فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آئندہ کم از کم ایک ہفتے تک خشک موسم متوقع ہے، جس کے باعث فوری بہتری کے امکانات کم ہیں اور عوام کو طویل عرصے تک خراب فضائی معیار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جموں و کشمیر میں سانس لینا محال، فضائی آلودگی میں خطرناک اضافہ