پرویز احمد
سرینگر//جموں و کشمیر حکومت نے ایک قانون ساز کی طرف سے ممکنہ زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے مواد کے بارے میں تشویش کا اظہار کرنے کے بعد بازار میں ملاوٹ شدہ انڈوں کی فروخت کے الزامات کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔متعلقہ محکمہ جات کو 2دنوں کے اندر رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس سے قبل ایم ایل اے جڈی بل تنویر صادق نے سماجی رابطہ کی ویب گاہ ایکس پر اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر صحت اوروزیر خوراک ستیش شرما سے اپیل کی تھی کہ وادی میں پیکڈ انڈے فروخت کرنے والی کمپنیوں کے نمونوں کی جانچ کرائی جائیں۔ نے ان رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا جن میں انڈوں میںNitrofuranاورNitroimidazoleنامی کیمیائی مواد کے ذرات پائے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔ دوسری جانب وزیر خوراک نے متعلقہ محکمہ جات کو ہدایت دی کہ وہ معاملے کی جانچ کرکے 2دنوں کے اندر اندر رپورٹ جمع کریں تاکہ حقائق سے آگاہی ہوسکے۔یہ بات قبل ذکر ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کا آزادانہ طور پر ٹیسٹ کرنے والی کمپنی Trusnfilied نے دعویٰ کیا ہے کہ eggozنامی کمپنی کے انڈوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے علاوہ مرغیوں کو انفکیشن سے بچائو کیلئے دی جانے والی غذا میں کھاد کے ذرات ملے ہیں جن میں Nitrofuranاور Nitroimidzoleنامی کیمیاتت کے اجزات اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ ادویات انڈے دینے والی مرغیوں کو انفیکشن سے بچنے کیلئے دئے جاتے ہیں لیکن ان کے استعمال پر سخت پابندی عائد ہے کیونکہ یہ سرطان اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا واقعی ملاوٹ والے انڈے فروخت کیے جا رہے ہیں اور اگر تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے ذریعے کی نشاندہی کرنا اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے اصلاحی کارروائی کرنا ہے۔